حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 563
حقائق الفرقان ۵۶۳ سُورَةُ الْبَقَرَة ۲۴۹ - وَ قَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ ايَةَ مُلْكَهُ أَنْ يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ بَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ الُ مُوسَى وَال هَرُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَئِكَةُ إِنَّ فِي ذلِكَ لَآيَةً لَكُمْ إِنْ كُنتُم مُّؤْمِنِينَ - ترجمہ۔ اور اُن سے کہا اُن کے نبی نے اُس کی حکومت کی نشانی یہ ہے کہ ملے گا تم کو ایسا قلب جس میں تسلی ہو تمہارے رب کی طرف سے اور ورثہ ہے اس کا جو چھوڑا ہے ہارون اور موسیٰ کے ہم رنگوں نے جس کو فرشتے اٹھائے پھرتے ہیں ۔ اس میں تمہارے لئے پوری نشانیں ہیں جب تم ایمان رکھتے ہو۔ تفسیر ۔ پھر ایک اور نشان بتایا کہ ان يَأْتِيَكُمُ التَّابوت تمہیں ایسے دل ( قلب ) عطا ہوں گے کہ ان میں تسلی ہوگی ۔ یعنی اس کے زمانے میں لوگوں کے قلوب میں ایک خاص سکینت واطمینان نازل ہوگا ۔ اور یہ بَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ الُ مُوسَی وَال هَرُونَ ۔ اور یہ وہی قوت قدسیہ کا اثر ہے جو موسی و ہارون کی اولاد میں ورثہ بہ ورثہ چلا آیا ہے کہ لوگ ان کے ساتھ آرام پاتے اور ان کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں اور خود بخود لوگوں کے دل ان کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ انہیں ایک خاص جذب دیا جاتا ہے۔ ان کی تقریر میں ایک خاص اثر ہوتا ہے۔ جب وہ کسی امر میں فیصلہ دیتے ہیں تو دشمن بھی اس وقت مان جاتے ہیں ۔ تَحْمِلُهُ الْمَلائِكَةُ ۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ دلوں کا اُٹھا نا فرشتوں کا کام ہے۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۸ مورخه ۶ رمتی ۱۹۰۹ ء صفحه (۴۳) يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ ۔ تابوت کے معنی دل کے ہیں۔ نووی شرح مسلم میں اس کی شہادت ہے۔ بخاری میں ہے التّابوت - القلب - قرآن حل کرتا ہے انزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ (الفتح : ۵) تشحید الا ذہان جلد ۸ نمبر ۹ - ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۴۳) ے جس نے اطمینان اتارا ایمانداروں کے دلوں میں ۔ (ناشر)