حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 559
حقائق الفرقان ۵۵۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ٢٤٦ - مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُطْعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ۖ وَ ص اللهُ يَقْبِضُ وَيَبْقُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ - ترجمہ۔کون ہے جو اللہ کی راہ میں مال کو الگ کر دیتا ہے عمدگی کے ساتھ۔اللہ بڑھاتا ہے اس کو بہت اور اللہ لیتا ہے اور اس کو بڑھاتا ہے اور تم اُسی کے طرف لوٹو گے ( یعنی جیسا کرو گے ویسا پاؤ گے )۔تفسیر - يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا - قرض کے لفظ پر بعض نادانوں نے اعتراض کیا ہے کہ مسلمانوں کا خدا مفلس ہے جو اپنی مخلوق سے قرض مانگتا ہے ایسے لوگوں کو کہنا چاہیے کہ گورنمنٹ بھی بینک میں روپیہ لیتی ہے تو کیا وہ غریب ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ، ہر چہ گیرد علتے علت شود، کے ماتحت اس لفظ کے معنے بھی ہمارے ملک میں آ کر بگڑ گئے۔قرض کے معنے ہیں مال کا حصہ کاٹ کر دینا۔مقراض اسی سے نکلا ہے پس اب ان معنوں پر کوئی اعتراض نہیں۔يقبضُ۔اور لیتا ہے۔يَبْصُط۔پھر اسے بڑھاتا ہے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۷ مورخه ۱/۲۹ پریل ۱۹۰۹ء صفحه ۴۲) قرض کے معنی - الْقَرَضُ وَيُكْسَرُ مَا سَلَّفْتَ مِنْ اِسَأَةٍ وَاِحْسَانٍ وَمَا تُعْطِيْهِ لِتُقْضِيه وَأَقْرَضَهِ أَعْطَاهُ قَرْضًا وَقَطَعَ لَه قِطْعَةً يُجَازِى عَلَيْهَا (قاموس اللغة) پہلے معنی کے لحاظ سے ایسے فعل کا نام قرض ہے جس کا بدلہ ہم نے پانا ہے۔یہ قرضہ دو قسم کا ہوا کرتا ہے۔ایک بُرا اور ایک بھلا۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أمْثَالِهَا (الانعام: (۱۶) یعنی کون ہے جو صرف اللہ کے واسطے اچھے اعمال کرے۔اے ترجمہ۔جس کے باطن میں خرابی ہے وہ جو فعل بھی کرے علت سے خالی نہیں ہوتا۔۲۔فرض قاف کی فتحہ اور کسرہ دونوں سے آتا ہے اور اس کا مفہوم ہے تو جو برا سلوک اور احسان کا معاملہ کرے اور جو تو دے تا وہ تجھے واپس دیا جائے قرض کہلاتا ہے۔اقْرَضَہ۔اس نے اسے قرض دیا اور اپنے مال میں سے ایک حصہ کاٹ کر دیا جس کا اسے بدلہ دیا جائے۔(ناشر)