حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 555
حقائق الفرقان ۵۵۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ۔ایک سال تک خود نہ نکالے گو وہ ۱۰ دن ۴ ماه بعدا اپنی مرضی سے نکل تشخيذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹۔ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۴۳) سکتی ہے۔۲۴۴ - اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أَلُونَ حَذَرَ المَوتِ ط فَقَالَ لَهُمُ اللهُ مُوْتُوا ثُمَّ احْيَاهُمُ إِنَّ اللهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ اكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ - ترجمہ۔کیا تم نے نظر نہیں کی ان کے حال پر جو نکلے اپنے گھروں سے اور وہ ہزاروں تھے ،موت کے ڈر کے مارے تو اللہ نے ان کو کہا کہ مرجاؤ پھر ان کو زندہ کر دیا بے شک اللہ بڑا مہربان ہے لوگوں پرولیکن اکثر لوگ ( اس کا ) شکر نہیں کرتے۔تفسیر۔اَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ۔اس آیت کے متعلق بہت سے اختلاف ہیں مگر میں جو معنے کروں گا وہ کامل یقین اور پورے انشراح صدر کے ساتھ ہیں۔اسی آیت کے اخیر میں فرمایا ہے اِنَّ اللهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ۔اللہ کے آدمی پر بڑے بڑے احسان ہیں۔پہلے ہم کو انسان پیدا کیا۔اگر کتے اور سو ربنا دیتا تو ہم کیا دخل دے سکتے تھے۔پھر چوہڑے چمار بنا دیتا تو ہم کیا دخل دے سکتے۔پھر کمزور قوموں میں پیدا کر دیتا تو ہمارا کیا بس تھا۔پھر ماں کے پیٹ سے نکل کر ہم پاگل ہو جاتے یا اندھے یا بہرے یا گونگے یا اپاہج تو ہمارا کیا زور تھا۔دیکھو اس کا ہم پر کیسا فضل ہے کہ معدوم سے موجود کیا۔موجود ہوئے تو آدمی بنایا۔میرے ایک دوست ذلیل قوم سے تھے ان کو اس بات کا رنج تھا۔وہ مجھے کہتے جب ہم وہ پیشہ چھوڑ چکے جو ذات کا موجب تھا تو پھر لوگ ہمیں کیوں حقارت سے دیکھتے ہیں۔میں نے کہا میرے نزدیک تمہارا ہی قصور ہے۔یہ لقب تمہارا کسی تمہاری مخفی بدکاری کا نتیجہ ہے جو اس زمین میں تم لوگوں نے کی۔اگر تم اس لعنتی سر زمین کو چھوڑ کر سومیل دور چلے جاتے تو کم از کم لوگ تمہیں شیخ تو کہتے۔اس پر وہ بولا کہ یہاں ہماری حویلیاں ہیں یہ ہے وہ ہے۔میں نے کہا معلوم ہوتا ہے کہ