حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 554
حقائق الفرقان ۵۵۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اس نماز کی خصوصیت سے تاکید فرمائی کہ جنگی اشغال تمہیں نماز سے نہ روکیں۔ایک صوفی نے اس آیت پر ایک نکتہ لکھا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے جہاد کے بیان میں خانہ داری کے امور کا بیان کرتے کرتے نماز کا بھی ذکر کر دیا گویا یہ سمجھایا کہ جیسا ہم نے ان جہاد کے مسئلوں کے درمیان طلاق وغیرہ کے ضروری مسئلے بیان کر دیئے اسی طرح تم بڑے بڑے ضروری کاموں میں نماز کو درمیان رکھ لیا کرو اور اسے قضا نہ کر دینا۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۷ مورخه ۲۹ را پریل ۱۹۰۹ ء صفحه ۴۱) ۲۴۱ - وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا وَصِيَّةً لِازْوَاجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ اِخْرَاجٍ ، فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ في أَنْفُسِهِنَّ مِنْ مَّعْرُوفٍ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمُ۔ترجمہ۔اور جولوگ مر جائیں تم میں سے اور چھوڑ جائیں بیبیاں ( تو چاہئے کہ ) وصیت کرمریں اپنی بیبیوں کے واسطے سلوک کرنے کی ایک سال تک اور نہ نکالنے کی پھر اگر وہ خود نکل جائیں تو تم پر کچھ گناہ نہیں جو کچھ کریں وہ اپنے لئے دستور کے موافق اور اللہ بڑا عزت والا بڑا حکمت والا ہے۔تفسیر۔وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ۔یہ بھی جہادی کی بات ہے کیونکہ آخر مسلمان بھی مقتول ہوتے تھے۔ان کی بیبیاں پیچھے رہ جاتیں۔ان کے لئے وصیت فرمائی کہ ایک سال تک نہ نکالی جاویں۔یہ آیت چار ماہ دس دن کے حکم کے خلاف نہیں بلکہ وہ عدت کی مدت ہے جو عورت پر واجب ہے اور یہ بطور وصیت اس متوفی کے وارثوں کو حکم ہے کہ ایک سال تک اس بیوہ کو خرچ دیتے رہیں۔وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ۔چونکہ لوگ بیوہ کے نکاح کے بارے میں کہتے ہیں یہ ہماری عزت کے خلاف ہے۔اس لئے فرمایا کہ میرا نام عزیز ہے۔میں سب سے زیادہ عزت والا ہوں۔میں یہ حکم دیتا ہوں اور لوگ کہتے ہیں کہ بیوہ کا نکاح نامناسب ہے۔اس لئے فرمایا ہم حکیم ہیں ہر قسم کی حکمت کو خوب سمجھتے ہیں اس لئے یہ حکم دیا جو نا مناسب نہیں۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۷ مورخه ۱/۲۹ پریل ۱۹۰۹ ء صفحه ۴۱)