حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 46 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 46

حقائق الفرقان ۴۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة الم سجدۃ اور ھل اتی پڑھا کرتے تھے اور ایک حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیس قرآن مجید کا دل ہے اور ایک دوسری میں آیا کہ آنحضرت نے ص میں سجدہ کیا۔مجاہد نے کہا کہ یہ سورتوں کے اوّل کے حکم میں ہیں یعنی جس طرح سورتوں کے اوّل سے ان سورتوں کو نامزد کیا جاتا ہے جیسا کہا جاتا ہے سورۂ قُلْ يَأَيُّهَا الْكَفِرُونَ يَا قُلْ هُوَ اللهُ وَغَيْرَهُمَا۔اسی طرح ان حرفوں سے بھی ان سورتوں کو نامزد کیا جاتا ہے اور یہی قول ہے مجاہد اور حسن اور زید بن اسلم کا۔تو یہ قول بھی مخالف نہیں بلکہ مؤید ہے کیونکہ جب یہ مسلم بات ہے کہ سورتوں کا نام ان کے ابتداء کے ساتھ رکھا جاتا ہے اور ان کے اوائل کے فی الحقیقت کچھ معنے بھی ضرور ہی ہوتے ہیں تو پھر یہ حروف جو سورتوں کے اوائل میں ہیں اگر باوجود اسماء الہی کی طرف مشیر ہونے کے ان سورتوں کے نام بھی ہوں تو اس میں کیا حرج ہے۔پھر مجاہد سے مروی ہے کہ یہ قرآن مجید کے نام ہیں اور یہ بھی مخالف نہیں بلکہ مؤید ہے کیونکہ ہر ایک سورۃ قرآن ہے تو جب یہ سورتوں کے نام ہوئے تو بالضرور قرآن مجید کے بھی نام ہوئے اور جس طرح کہ سورتوں کے اسماء اور اسماء الہی کے اجزا ہونے میں کسی قسم کی منافات نہیں بلکہ دونوں ہو سکتے ہیں اسی طرح اسماء قرآن مجید اور اسماء الہی کے اجزاء ہونے میں کوئی مخالفت نہیں اور نہ اسماء قرآن مجید اور اسماء الہی ہونے میں کچھ نقص عائد ہوسکتا ہے۔پھر مجاہد سے مروی ہے کہ حروف سورتوں کے مفاتیح ہیں اور چونکہ سورتیں بھی قرآن مجید ہیں لہذا وہ مفاتیح القرآن بھی ہیں اور یہ بھی مخالف نہیں بلکہ مؤید ہے اس لئے کہ سورتوں کا افتتاح بھی تسبیح وتحمید اور اسماء حسنیٰ کے ساتھ کیا جاتا ہے۔پس اگر باوجود ان کے اسماء الہی کی طرف مشیر ہونے کے مفاتیح القرآن بھی ہوں تو کچھ حرج کی بات نہیں ہے اور پھر بعض کا قول ہے کہ یہ اسماء الہی اور افعال سے ہیں اور یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے تو یہ بھی مخالف نہیں بلکہ مؤید ہے اس لئے کہ اسماء الہی میں سے وہ بھی ہیں جو کہ افعال الہی پر دال ہیں۔پھر بعض نے کہا ہے کہ یہ معنے کے لئے یا بہت معانی کے لئے موضوع ہیں تو یہ بھی مخالف نہیں