حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 546
حقائق الفرقان ۵۴۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة تعلقات میں اس قسم کی باتیں آجاتی ہیں کہ ان میں کسی طرح اصلاح نہیں ہوسکتی تو اس صورت میں بجائے اس کے کہ اس بے چاری کو دکھ دیا جائے۔طلاق دینے کا ارشاد ہے مگر یک دم طلاق دینے کی اجازت نہیں۔الطَّلَاقُ مَرَّتن - طلاق دو بار ہے۔پھر اس کے بعد امساك بِمَعْرُوفِ رکھ لے تو پسندیدہ طور پر۔تشریح باحسان یا رخصت کر دے بہت سلوک سے۔افسوس مسلمان اس پر عمل نہیں کرتے اور یک دم سو طلاق دیتے ہیں حالانکہ طلاق متفرق طہروں سے دینی چاہیے۔شيْئًا۔یہ تاکید کے لئے ہے کہ کچھ بھی واپس لینا جائز نہیں۔فيمَا افْتَدَتْ بِه - عورت کچھ روپیہ دے کر مرد سے طلاق لے سکتی ہے۔اس کا نام ضلع ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۷ مورخه ۱/۲۹ پریل ۱۹۰۹ ء صفحه ۴۰) جاتیں۔الطَّلَاقُ مَرَّتن۔یکدم طلاق جائز نہیں۔عہد نبوی میں بہت سی طلاقیں یک دم ایک ہی سمجھی تشخيذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ - ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۴۳) ۲۳۱ - فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۖ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيِّمَا حُدُودَ اللَّهِ وَ تِلكَ حُدُودُ اللهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ - ترجمہ۔پھر اگر طلاق دے دے عورت کو تو طلاق دینے والے مرد پر وہ عورت حلال نہیں جب تک دوسرے خاوند سے نکاح نہ کر لے پھر اگر وہ (دوسرا) خاوند (اُس کو ) طلاق دے دے تو دونوں میاں بی بی پر کچھ گناہ نہیں اگر دونوں مل جائیں جبکہ دونوں کو یقین ہو کہ اللہ کے حکم کے موافق رہ سکیں گے۔یہ اللہ کے ٹھہرائے ہوئے قاعدے ہیں جن کو کھول کھول کر بیان فرماتا ہے ان لوگوں کے لئے جو جانتے ہیں۔تفسیر۔فَإِنْ طَلَّقَهَا۔یہ تیسری طلاق کا ثبوت ہے۔فَلَا تَحِلُّ لَهُ۔اس سے جو حلالہ کی بدرسم جاری ہوئی وہ اسلام کے لئے ننگ ہے۔حلالہ اس چیز کا نام ہے کہ موقت نکاح کرتے ہیں۔ادھر نکاح و جماع اور صبح طلاق۔پھر پہلا شوہر نکاح کر لیتا