حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 545
حقائق الفرقان ۵۴۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة b ص ۲۳۰ - الطَّلَاقُ مَرَّتَنِ فَامُسَاكَ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحُ بِاِحْسَانِ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا اتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَخَافَا اَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللهِ فَإِنْ خِفْتُمُ اَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ تِلْكَ حُدُودُ اللهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ - ط ترجمہ۔طلاق دو ہی دفعہ ہے پھر یا تو ( عورت کو روک رکھنا دستور کے موافق یا (اس کو) رخصت کرنا ہے نیک سلوک کر کے اور تم کو نا جائز ہے اُس مال میں سے کچھ بھی واپس لینا جو تم عورتوں کو دے چکے ہو مگر یہ کہ جو رو خاوند ڈریں کہ اللہ نے جو حدیں باندھی ہیں ان پر قائم نہ رہ سکیں گے پس اگر ایماندار ڈریں کہ حدود اللہ کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو ایسی صورت میں عورت اپنا پیچھا چھڑانے کو کچھ بدلہ دے دے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں یہ اللہ کی حد بندیاں ہیں اُن سے آگے مت بڑھوا اور جو اللہ کی حدوں سے آگے بڑھ جائے تو یہی لوگ بے جا کام کرنے والے ہیں۔تفسیر۔طلاق ایک اسلامی حکم ہے جو شریعت نے ضرور ٹا جائز رکھا ہے کیونکہ بعض وقت جو حقیقی تعلق میاں بی بی کا ہے وہ قائم نہیں رہ سکتا اسی لئے اس کو قطع کرنا پڑتا ہے وہ حقیقی تعلق آیت لتسکنوا إليها (الروم: ۲۲) میں مذکور ہے کہ تسکین ہوتی ہے۔۲۔مَوَذَةً دوستانہ بڑھانے کا ذریعہ ہے۔وَرَحْمَةً ۴۔خانہ داری کا انتظام۔عورت ایک بہت نازک صنف ہے اور ہر طرح مدد کی محتاج ہے۔وہ تعلیم میں مرد کی برابری نہیں کر سکتی کیونکہ حمل اور بچہ کی پرورش اور منتقلی کورس کی کمزوری اس کے لاحق حال ہے۔اس کے اعضا میں ایک قسم کی نزاکت ہوتی ہے اور پھر بوجہ پردہ عام طور سے اسے تجارب کا موقعہ نہیں ملتا۔پس جب ہم دیکھتے ہیں کہ آنکھ کو اگر ذرا بھی دکھ پہنچے تو ایڑی کے زخم سے اس کی زیادہ غور و پرداخت کی جاتی ہے تو پھر عورت کے چھوٹے سے چھوٹے دکھ کی بھی کیوں نہ پرواہ کی جائے۔بعض وقت میاں بی بی کے اے تا کہ تم آرام پاؤان کے ساتھ۔( ناشر )