حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 543
حقائق الفرقان لدله سُورَةُ الْبَقَرَة جنگی کاموں کی کیا تربیت پاتے ہیں ۔ اس لئے شادی کا حکم اول تو جسمی طاقت اور مالی وسعت پر صادر ہوا ہے ۔ قرآن کریم میں آیا ہے وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّى يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ (النور: ۳۴)اور فرمایا وَ مِنْ اليَتِهِ أَنْ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً (الروم: ۲۲) اور فرمایا۔ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ - (البقرة : ۲۲۴) پس عورت طلاق لے سکتی ہے ۔ اگر مرد اس کی نفسانی ضرورتوں کو پورا نہ کر سکے۔ ۲۔ قابلِ ولادت نہ ہو۔ ۳۔ معاشرت کے نقائص رکھتا ہو۔ ۴۔ نان و نفقہ نہ دے سکے۔ اِسی واسطے قرآن کریم میں ہے وَلَا تُمْسِكُوهُنَّ ضِرَارًا ۔ اور ان احکام کی عام تعمیل پر فرمایا ۔ کی ۔ وَلَا تُضَارُوهُنَّ وَلا تَتَّخِذُوا آیت الله هزوا اسی طرح مرد طلاق دے سکتا ہے۔ اگر عورت تقویٰ کے متعلق نفسانی اغراض پوری نہ کر سکے ۔ قابلِ ولادت نہ ہو۔ معاشرت کے نقائص رکھتی ہو ۔ نکاح کے منافع شخصیہ اور نوعیہ کی خلاف ورزی کرتی ہو ۔ بد چلنی کے باعث فساد و مزاحمت کا باعث ہو۔ پھر کبھی طلاق فوری ہو سکتی ہے جیسے لعان ۔ واقعی ہم بستری سے پہلے وعدہ میں اور کبھی تدریجی ہوتی ہے جیسے فہمائش ۔ شروط طلاق اور منصفوں کے فیصلہ کے بعد ۔ تعداد ازواج پر منع، تعدد ازواج کے نقصانات نمبر ۱۔ عورتوں کے قتل کے واقعات ہوں گے۔ جب پہلی بی بی ناپسند ہو اور کوئی دوسری پسند آ جاوے تو ان بلا دو اقوام میں جن میں دوسری بی بی کرنا ممنوع ہے اور بائیں قوم بہادر ہے پہلی کو ماردیں ے اور چاہیے کہ وہ لوگ پاک دامن بنے رہیں جن کو نکاح کا مقدور نہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو غنی بنادے اپنے فضل سے۔ ۲ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے پیدا کر دیا تمہارے لئے تمہارے ہی میں سے بیبیوں کو تاکہ تم آرام پاؤ ان کے ساتھ اور تمہارے میں پیار رکھ دیا اور مہربانی سے تمہاری بیبیاں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ (ناشر) کے اور اُن کو تکلیف دینے کو نہ رکھنا۔ (ناشر) ۵ اور ان کو ایذا نہ دو۔ (ناشر) ہے اور اللہ کے احکام اور نشان کے ٹھٹھے نہ اڑاؤ ۔ (ناشر)