حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 45 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 45

حقائق الفرقان ۴۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة پس جبکہ یہ طریق اختصار زبانِ عرب بلکہ خود قرآن میں موجود ہے اور بہت سے جلیل القدر صحابہ اور اہل علم تابعین اور ائمہ سے مروی ہے تو اب اس سے بے وجہ عدول کرنا اور محض احتمالات بے وجہ سے ان کے معنوں میں اشتباہ پیدا کر کے ان کو متشابہات میں داخل کرنا درست نہیں اور بعض لوگ بعض روایات کو بزعم خودان معنوں کے مخالف تصور کرتے ہیں حالانکہ فی الحقیقت وہ انہی معنوں کی مؤید اور مثبت ہیں نہ مخالف۔مثلاً حضرت ابن مسعود اور ابن عباس اور شعبی سے مروی ہے کہ یہ حروف اسماء الہی ہیں۔تو اگر چہ بعض نے غلطی سے اس روایت کو پہلی روایت کے خلاف خیال کیا ہے لیکن فی الحقیقت یہ اس کی مؤید ہے کیونکہ دونوں روایتوں کا مطلب یہ ہے کہ ان حروف سے مراد اسماء الہی ہے اگر چہ اس قدر فرق ہے کہ پہلی میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ حروف اسماء الہی پر اس لئے دلالت کرتے ہیں کہ یہ اُن کی جو وہیں اور دوسری روایت میں یہ نہیں بیان کیا گیا بلکہ بجز کا گل پر بلکہ بدل کا مبدل منه پر اطلاق کر کے انہی حروف کو اسماء بول دیا ہے اور یہ استعمال عام اور شائع ہے اور ان دونوں روایتوں کے متحد المطلب ہونے پر یہ بڑا قرینہ ہے کہ قائل دونوں کے ایک ہی ہیں اور دوسری کی عبارت ان معنوں کی متحمل ہے جو کہ پہلی کے معنی ہیں۔اسی طرح بعض سے مروی ہے کہ یہ حروف اسماء الہی ہیں تو یہ بھی مخالف نہیں بلکہ پہلی روایت کے مؤید ہے کیونکہ پہلی روایت کے مطابق ان سے مراد اسماء الہی ہیں اور ظاہر ہے کہ اسماء الہی عموماً خدا کی صفت اور ثناء ہوتے ہیں۔مثل رب العالمین، الرحمن الرحيم، الرزاق ذو القوة المتین وغیرہ کے۔پس یہ روایت بھی مؤید ہے نہ مخالف۔اسی طرح حضرت ابن عباس اور عکرمہ سے مروی ہے کہ یہ حروف قسم ہیں کہ جن کے ساتھ قسم کھائی گئی ہے تو یہ بھی مخالف نہیں بلکہ مؤید ہے کیونکہ قسم بھی اسماء الہی کے ساتھ کھانے کا حکم ہے۔پھر بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ الم نام ہے سُورۃ کا اور یہ وہ بات ہے کہ جس پر اکثر مفسرین کا اتفاق ہے اور اکثر محققین نے اسی کو پسند کیا ہے اور خلیل اور سیو یہ جیسے جلیل القدر امام بھی اسی طرف گئے ہیں اور اس پر ان احادیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ جن میں کسی عورت کو ان حروف کے ساتھ نامزدکر کے ذکر کیا گیا ہے جیسا صحیحین کی حدیث میں ہے کہ آنحضرت جمعہ کی صبح کی نماز میں