حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 538
حقائق الفرقان ۵۳۸ سُورَةُ الْبَقَرَة كَلِمَةُ الْحِكْمَةِ ضَالَةُ الْمُؤْمِنِ حَيْثُ وَجَدَهَا أَخَذَهَا (الترمذی، کتاب العلم باب ماجا فی فضل الفقه على العبادة) کے ماتحت میں ہندو مذہب کے اس طریق کو بہت اچھا سمجھتا ہوں کہ وہ اپنی عورتوں کو آٹا تک نہیں گوندھنے دیتے تا کہ پانی نقصان نہ پہنچائے ۔ گو وہ اس احتیاط میں حد سے بڑھ گئے ہیں۔ ہماری پاک شریعت چونکہ انسان کے جان و مال کی محافظ ہے اس واسطے اللہ نے خاص عبادتیں معاف کر دی ہیں اور ادھر مردوں کو روک دیا۔ هُوَ آدی ۔ بد بودار چیز ہے۔ اس حالت میں انسان جماع کرے تو دکھ کا موجب ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خلاف وضع فطرت بھی حرام ہے۔ ایک پاک فطرت کا انسان حضرت علی فرماتا ہے اگر قرآن میں اس کا ذکر نہ ہوتا تو میر واہمہ تجویز ہی نہیں کر سکتا کہ یہ بدکاری بھی ہے۔ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ - بالکل نزدیک نہ جاؤ۔ اس سے لواطت کی حرمت بھی ظاہر ہے۔ يَطْهُرْنَ ۔ پاک ہو جاویں۔ ہمارے ملک کی عورتیں بہت نا واقف ہیں خوشبو وغیرہ کا استعمال نہیں جانتیں ۔ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ ۔ اس کے معنے اللہ نے سورۃ النمل آیت ۵۷ میں بتائے ہیں اَخْرِجُوا ال لُوطٍ مِنْ قَرْيَتِكُمْ إِنَّهُمُ أَنَاسٌ يَتَطَهَّرُونَ گویا جو شخص لواطت سے اجتناب کرے اسے متظبر کہتے ہیں ۔ ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۷ مورخه ۲۹ را پریل ۱۹۰۹ ء صفحه ۳۹) إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرۃ:۲۲۳) اللہ دوست رکھتا ہے تو بہ کرنے والوں کو اور دوست رکھتا ہے پاک صاف ہونے والوں کو ۔ (نورالدین بجواب ترک اسلام ۔ کمپیوٹرائز ڈایڈیشن صفحہ ۲۶) اے حکمت کی بات مومن کی گمشدہ (متاع) ہے وہ اسے جہاں بھی ملے لے لیتا ہے۔(ناشر) ۲ نکالو لوط کے گھر والوں کو تمہاری بستی سے کیونکہ یہ لوگ تو بڑے صاف د پاک رہنے والے ہیں ۔ سے بے شک اللہ تو بہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور صفائی رکھنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (ناشر)