حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 537 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 537

حقائق الفرقان ۵۳۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة مانتے ہیں۔احیاء موتی اس کی طرف منسوب کرتے ہیں۔عالم الغیب اسے جانتے ہیں۔حرام وحلال کا اختیار اسے دے رکھا ہے۔پھر ختم نبوت کے بھی وہ قائل نہیں۔پس ایسے مشرک لوگوں سے ہمیں تعلق ازدواج قائم کرنے میں سراسر نقصان ہے اس لئے امام نے منع فرمایا۔جن احمدیوں نے حضرت امام کی اس نصیحت پر عمل نہیں کیا سکھ انہوں نے بھی نہیں پایا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۷ مورخه ۱/۲۹ پریل ۱۹۰۹ ، صفحه ۳۹) ج ۲۲۳ - وَ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّى يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ اَمَرَكُمُ اللهُ - إِنَّ اللهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ - ترجمہ۔اور اے پیغمبر ! تجھ سے پوچھتے ہیں حیض کے بارہ میں تو جواب دے وہ گندگی ہے تو حیض کے دنوں میں تم عورتوں سے الگ رہو یعنی ( صحبت نہ کرو) اور عورتوں کے پاس نہ جاؤ جب تک وہ خوب پاک نہ ہوں پھر جب اچھی طرح پاک ہو جائیں تو ان کے پاس آؤ جس طرح اللہ نے تم کو حکم دیا بے شک اللہ تو بہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور صفائی رکھنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ۔عرب کا دستور تھا کہ وہ جنگ میں اپنی عورتوں کو بھی ساتھ لے جاتے تھے۔اس رسم کا فائدہ یہ تھا کہ وہ بڑے جوش سے جنگ کرتے تھے اور جان تو ڑ کر لڑتے تھے کیونکہ ان کو خیال ہوتا کہ اگر ہم نے پیٹھ پھیری اور بزدلی دکھائی تو ہماری عورتوں کی عصمت محفوظ نہیں رہے گی اور سب بال بچہ دشمنوں کے قبضہ میں آ جائے گا اس واسطے جنگ کا نام بھی انہوں نے حفیظہ رکھا تھا کیونکہ جنگ ان کے ننگ و ناموس کی حفاظت کا موجب تھی۔اب جنگوں میں جب عورتیں ان کے ساتھ تھیں تو بعض وقت ان کو حیض بھی آ جاتا۔اس حالت میں انہوں نے یہ مسئلہ پوچھا کہ کیا حکم ہے؟ اسلام میں حیض کے متعلق عورتوں کو کئی حکم ہیں۔مثلاً یہ کہ وہ روزہ نہ رکھے ( کیونکہ پہلے ہی سے بہت ضعیف ہوتی ہے اس طرح بیماری بڑھتی ہے )۔نماز نہ پڑھے۔وضو نہ کرے کیونکہ ٹھنڈے پانی سے استنجا سخت نقصان پہنچاتا ہے۔