حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 536 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 536

حقائق الفرقان ۵۳۶ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ۲۲۲ - وَ لَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكِتِ حَتَّى يُؤْمِنَ ۖ وَلَامَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكَةٍ وَ لَوْ أَعْجَبَتْكُمْ ۚ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَ لَعَبدُ ط مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَ لَوْ أَعْجَبَكُمْ أُولَبِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللهُ يَدْعُوا إِلَى الْجَنَّةِ وَ الْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ التِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يتذكرون - ترجمہ۔اور (اے مسلمانو!) مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک ایمان نہ لائیں۔بے شک مسلمان باندی اچھی ہے شرک کرنے والی عورت سے اگر چہ وہ مشرکہ تم کو بہت ہی بھلی معلوم ہو اور (اے مسلمان عورتو!) تم مشرکوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لائیں اور البتہ مسلمان غلام بہتر ہے مشرک سے اگر چہ وہ مشرک تم کو کتنا ہی بھلا معلوم ہو۔یہ مشرک تو جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے اپنی مہربانی سے خود ہی اور اپنے احکام کھول کھول کر بیان کرتا ہے لوگوں سے تا کہ وہ یاد کریں اور نصیحت لیں۔تفسیر۔وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكِتِ حَتَّى يُؤْمِنَ۔لڑائی میں کفار کی عورتیں قیدی بن کر آتی تھیں اس لئے صحابہ نے ان کے نکاح کا مسئلہ پوچھا کیونکہ وہ ان کی رشتہ دار تھیں۔آپ نے حکم دیا کہ مشترکہ سے نکاح جائز نہیں۔اس میں بہت بڑی حکمتیں تھیں۔ایک تو یہ کہ عورتوں میں شرک بہت ہوتا ہے۔اگر مشرکہ عورتیں مسلمانوں کے گھروں میں آجائیں تو ان کی اولاد پر برا اثر پڑتا ہے۔میں نے ایک عورت کو ایسے شرک میں مبتلا دیکھا جس کو میر او اہمہ تجویز نہیں کر سکتا۔وہ یہ کہ ایک عورت ہر صبح پاخانہ کو سجدہ کرتی اور کہتی کہ ہے قدمچہ مائی ! مجھے بیٹا ملے تو میں اپنا بیٹا تجھی پر ہگایا کروں گی۔وَلَا تُنكِحُوا الْمُشْرِکِینَ۔یعنی اپنی لڑکیوں کی شادیاں مشرکوں کومت کر دو۔اسی بنا پر ہمارے امام نے حکم دیا کہ غیر احمدیوں کو اپنی لڑکیاں نہ دو کیونکہ ان میں بھی شرک ہے اور اس طرح میل جول سے شرک بڑھ جائے گا۔شرک میں نے بلا تحقیق نہیں کہا۔مسیح کے مسئلہ ہی میں جو خوفناک گمراہی ان میں ہے وہ کم نہیں۔وہ کونسی اللہ کی صفت ہے جو اس کی طرف منسوب نہیں کرتے۔خَالِقِ كَخَلْقِ اللہ اسے