حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 535
حقائق الفرقان ۵۳۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة عفو یعنی جو حاجت اصلیہ سے زیادہ ہو حلال اور طبیب مال دے۔روی چیز نہ ہو۔ابتغاء لِوَجْهِ اللهِ دے۔تشخيذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۱۔جنوری ۱۹۱۳ ء صفحہ ۳۲) مَاذَا يُنْفِقُونَ۔کہاں دیں۔کتنا خرچ کریں۔دونوں معنی ہیں۔عَنِ الْخَيْرِ وَالْمَير - آیات میں ربط قائم ہے۔جنگ میں شراب اور جو ا آج تک ہوتا ہے فوجوں میں جوش اور خرچ اسی ذریعہ سے مہیا کرتے ہیں۔صحابہ نے اس بارے میں دریافت کیا۔مَا ذَا يُنْفِقُونَ جو ا منع ہے تو اب راشن وغیرہ کہاں سے لائیں گے۔اس سے آگے بھی سب سوال جنگ کے نتائج پر مبنی ہیں۔تشخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ ء صفحه ۴۴۲) b b ۲۲۱ - في الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْيَتَى قُلْ إِصْلَاحَ لَهُمْ خَيْرُ وَ اِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَلَوْ شَاءَ اللهُ لاَعْنَتَكُمْ ، إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمُ۔ترجمہ۔دنیا اور آخرت کے معاملہ میں اور تجھ سے پوچھتے ہیں یتیموں کے بارے میں تو جواب دے ان کی بہتری کے کام کرنا بہتر ہے، اگر تم ان سے مل جل کر رہو تو وہ تمہارے بھائی بہن ہیں اور اللہ جانتا ہے بگاڑنے والے اور سدھارنے والے کو۔اور اگر اللہ چاہتا تو م کو مشکل میں ڈال دیتا۔بے شک اللہ ز بر دست حکمت والا ہے۔يَسْتَلُونَكَ عَنِ الیتی۔جب لڑائی چھڑتی ہے تو اس میں مقتول بھی ہوتے ہیں اور مقتول کے بچے یتیم بھی ہوتے تھے اس لئے ان کی نسبت حکم دیا اصلاح لَّهُم خَیر ان کی بہتری ، بہبودی کا فکر بہت بڑی نیکی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۶ مؤرخه ۲۲ را پریل ۱۹۰۹ صفحه ۳۸) وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِح - امام محمد کے پاس کسی یتیم کے کپڑے تھے آپ نے انہیں بیچ ڈالا۔کسی نے کہا یتیم کے مال میں کیوں تصرف کرتے ہو؟ تو آپ نے یہی آیت پڑھی اور اسے سمجھایا کہ کپڑے تو پرانے ہو کر ان کی قیمت گھٹتی جاتی تھی اس لئے ان کو بیچ دیا تامال محفوظ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۷ مؤرخہ ۱/۲۹ پریل ۱۹۰۹ صفحه ۳۹) رہے۔