حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 534 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 534

حقائق الفرقان ۵۳۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة سے پایا جاتا ہے کہ وہ ہارنے کو بہت پسند کرتے تھے اور اپنی ہار کو فخر سے بیان کرتے تھے۔اس کی بھی یہی وجہ تھی کہ ایسے لوگوں کے ذمہ تمام اخراجات ہو جاتے اور قحط میں سارے غریبوں کا نان ونفقہ اسی کو دینا پڑتا۔چونکہ اس میں ایک نیکی کا موقع ملتا تھا اس لئے وہ تفاخر کرتے تھے۔اس پر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان میں بڑی بدکاری ہے۔بے شک غرباء کو نفع پہنچتا ہے نَفْعِهِمَا کے یہی معنے ہیں مگر اس بدکاری کا جو نتیجہ ہے وہ سخت گندہ ہے۔اس کے مقابل میں اس نفع رسانی کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ جب ان کے ذمہ یہ اخراجات پڑتے اور پاس ایک کوڑی بھی نہ ہوتی تو نا چاران کو آرمینیا اور کا کس تک ڈاکہ زنی کرنی پڑتی۔جب صحابہ نے خمر و میسر کے متعلق حکم سنا تو معا ان کے دلوں میں خیال پیدا ہوا مَا ذَا يُنْفِقُونَ پھر خرچ کہاں سے آوے۔فرمایا۔العَفُو جو تمہاری حاجتِ اصلی سے زیادہ ہو۔مٹھی بھر جو جمع کرو خدا تعالیٰ اسی میں برکت ڈال دے گا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۶ مؤرخه ۱/۲۲ پریل ۱۹۰۹ ء صفحه ۳۸) اس آیت شریف سے ثابت ہوا شراب میں اثم ہے اور بڑا اثم ہے۔تصدیق براہین احمدیہ۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۷۴) يَسْتَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ (البقرة :۲۲۰) صدقات کیسے مال سے دیں۔کس قدر صدقہ نہایت ضرور ہے۔اس کے قواعد جیسے اسلام میں مفصل موجود ہیں مجھے معلوم نہیں کہیں اور جگہ بھی ہوں۔مسیح فرماتے ہیں جو کوئی تجھ سے مانگے اُسے دے۔کہاں سے دے۔چوری حرام کاری سے بھی۔بُری چیز مانگے۔محال بھی مانگے کیا تب بھی ہم دیں۔مگر قرآن فرماتا ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِّنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُم بِأَخِذِيهِ (البقرة: ۲۶۸) فصل الخطاب لمقدمه اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۳۶) لے اور پوچھتے ہیں تجھ سے کیا خرچ کریں تو کہہ جو افزود ہو ( حاجت سے)۔(ناشر) ۲۔اے ایمان والو خرچ کر وستھری چیزیں اپنی کمائی میں سے اور جو ہم نے نکال دیا تم کو زمین میں سے اور نیت نہ رکھو گندی چیز پر کہ خرچ کرو اور تم آپ نہ لو۔۱۲