حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 44
حقائق الفرقان ۴۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اب چوتھی دلیل پر تیکش یوں ہے کہ کلمہ طیبہ۔الم - ذَلِكَ الْكِتَبُ - لَا رَيْبَ فِيْهِ - هُدًى لمتقين چار جملے ہیں۔چوتھا جملہ مطلب وغایت کو ادا کرتا ہے اور تیسرا جملہ سروپ کو۔دوسرا جملہ مادہ کتاب کو تو ان مشاہدات ثلاثہ سے یہ پتا لگا کہ پہلا جملہ اس کتاب کے متکلم ومصنف کا پتا ( نورالدین بجواب ترک اسلام کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۳۲۵ تا ۳۳۱) دیتا ہے۔حروف مقطعات کے معنے یہ حروف اسماء الہی کے ٹکڑے ہیں اور ان کے ساتھ اُن اسماء الہی کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے کہ جن کی یہ جز و ہوتے ہیں اور یہ دعوے ہم از خود نہیں کرتے بلکہ حضرت علی اور ابن مسعود اور ابن عباس اور بہت سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اور خیر التابعین فی التفسیر مجاہد اور سعید بن جبیر اور قتادہ اور عکرمہ اور حسن اور ربیع بن انس اور سدی اور شعبی اور اخفش اور تابعین کی ایک بڑی جماعت سے مروی ہے کہ ان حروف کے ساتھ اسماء الہیہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور یہ کہ یہ ان اسماء الہی کے ابعاض اور اجزا ہیں اور ضحاک نے اس پر یہ استدلال کیا ہے کہ کلمہ کے بعض کو ذکر کر کے پورا کلمہ مراد لینا یہ عربوں کی عادت میں داخل ہے اور اس کی تائید کے لئے اُس نے کچھ اشعار پیش کئے ہیں بلکہ جو قرآنِ مجید کہ ہدایت اور شفا ہے اس میں بھی تم دیکھتے ہو کہ وقفوں کے رموز کے لئے حروف لکھے ہوئے ہیں مثلاً مطلق کا نشان ط ہے اور جائز کا نشان ج ہے اور رکوع کا نشان حاشیہ پر ع ہے۔اسی طرح کتب احادیث میں نا۔انا۔نبا۔ح رموز ہیں اور علم کلام میں ہذا خلف کے عوض ہف ہوتا ہے اور کتب فقہ میں جحط وغیرہ رموز موجود ہیں اور کتب لغت میں لیں۔ن یض_کف_ح بابوں کے رموز ہیں اور ت۔ع۔ج۔بلدہ اور معروف اور جمع کے رموز ہیں اور کتب طب میں مکد مِن كُلّ واحد کی رمز ہے۔پس یہ سب رموز اس بات کے شاہد ناطق ہیں کہ یہ طریقہ اختصار عربوں میں دائر اور سائز ہے بلکہ قرآن مجید اور احادیث میں بھی موجود ہے اور اس زمانہ میں تو قریباً ہر ایک قوم میں اس کی اس قدر کثرت ہے کہ جس کے ثبوت پیش کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔