حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 529 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 529

حقائق الفرقان ۵۲۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة میں ہے۔كُنتُم اَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَاصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا (ال عمران:۱۰۴) یعنی تم دشمن تھے ایسے دشمن کہ ابن العم کا لفظ بھی گویا لڑائی کا نشان تھا حالانکہ یہ رشتہ اتحاد وقرب کے لئے ہے۔دوسرا عیب شرک کا تھا۔اس کا اس قدر زور تھا کہ مکہ معظمہ کے اندر ۳۶۰ بت تھے۔اس شرک کے متعلق آپ کی تعلیم خصوصیت سے ایسی تھی کہ اس کی جڑیں کاٹ دے چنانچہ اوّل تو لا إلهَ إِلَّا اللہ تمام شرکوں کی جڑ کو کاٹتا ہے۔اس کے معنے ہیں اللہ کے سوا کوئی ہمارا حاجت روا نہیں۔ہم کسی کو سجدہ نہیں کرتے۔اس کے سوا کوئی ہماری دعا کو نہیں سنتا۔ہم کسی کی نذرکو نہیں مانتے۔پھر صریح طور پر فرما یا إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَ يَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ (النساء:۴۹) آپ جب عورتوں سے بیعت لیتے تھے تو سب سے پہلے یہی وعدہ لیتے تھے اَنْ لَا يُشْرِكُنَ بِاللهِ شَيْئًا- (الممتحنة: ۱۳) غرض عرب میں دو عیب تھے دونوں کے دور کرنے کے لئے آپ نے بڑی بڑی کوششیں کیں اور ان کو شرک سے نکال کر توحید کی راہ دکھائی اور خانہ جنگیوں سے چھڑا کر بھائی بھائی بنادیا۔قوموں میں وحدت کا بیج بونے کے لئے چار اصول بتلائے۔ا۔بدظنی کی ترک۔کیونکہ یہی جڑ ہوتی ہے تمام لڑائیوں کی۔بدظنی سے نکتہ چینی تک نوبت پہنچتی ہے اور پھر غیبتیں شروع ہو جاتی ہیں اس لئے ارشاد کیا۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الفن (الحجرات: ١٣) ۲۔ٹھٹھا کی ترک۔یہ بھی کئی قسم کی لڑائیوں کا موجب ہو جاتا ہے اس لئے فرمایا۔ا تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اُسی نے تمہارے دلوں میں اُلفت پیدا کی تو اس نعمت سے تم بھائی بھائی ہو گئے۔۲۔بے شک اللہ یہ قصور نہیں معاف کرتا کہ کسی کو اُس کے برابر سمجھا جائے، اُس کا شریک کیا جائے اور معاف کر دیتا ہے اس کے سوائے نیچے کے گناہ (سب قصور )۔سے شرک نہ کریں گی اللہ کے ساتھ کسی کا۔ہے اے ایماندارو! بچے رہو بہت بدگمانیوں سے۔(ناشر)