حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 528
حقائق الفرقان ۵۲۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ۲۱۸ - يَسْتَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيْهِ قُلْ قِتَالُ فِيْهِ كَبِيرُ ۖ وَ صَدُّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ وَ كُفْرًا بِهِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ إِخْرَاجُ أَهْلِهِ مِنْهُ أَكْبَرُ عِنْدَ اللهِ وَ الْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ وَ لَا يَزَالُونَ يُقَاتِلُونَكُمْ حَتَّى يَرُدُّوكُمْ عَنْ دِينِكُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا وَمَنْ يَرْتَدِدُ مِنْكُمْ عَنْ دِينِهِ فَيَمُتُ وَ هُوَ كَافِرُ فَأُولَبِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَ أُولَبِكَ أصحُبُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ - ج ترجمہ۔اور اے پیغمبر ! تجھ سے پوچھتے ہیں ادب کے مہینوں میں لڑنے کا حال تو کہہ دے ان مہینوں میں لڑنا بڑا گناہ ہے اور اللہ کے راستہ سے روکنا یعنی حج سے اور اس کو نہ ماننا اور کعبہ شریف سے روکنا اور مکہ والوں کو مکہ سے نکال دینا اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑھ کر گناہ ہے ( یعنی ادب کے مہینوں میں لڑنے سے ) اور شرارت تو قتل سے بھی بڑھ کر ہے اور وہ تم سے ہمیشہ لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ تم کو ہٹا لیں تمہارے دین سے اگر اُن سے ہو سکے اور بن پڑے اور تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھر جائے اور کفر ہی کی حالت میں مرجائے تو ان کا کیا کرایا دنیا اور آخرت (دونوں) میں اکارت گیا اور یہی لوگ ہیں جن کا انجام ایک آگ ہے جس کی جلن میں وہ مدتوں جلتے بھنتے رہیں گے۔تفسیر۔تجھ سے پوچھتے ہیں مہینے حرام کو اور اس میں لڑائی کرنی تو کہہ لڑائی اس میں بڑا گناہ ہے اور روکنا اللہ کی راہ سے۔فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ اوّل صفحہ ۹۸ حاشیہ ) عرب میں خانہ جنگیاں ہوتی رہتی تھیں۔چھوٹی چھوٹی بات پر خون کی ندیاں بہہ جاتی تھیں۔ایک فریق دوسرے کی مانتا نہ تھا اس واسطے ان میں طوائف الملوکی رہتی تھی۔جہاں کوئی جو ہر ہوتا وہ جنگ گاہ بن جاتا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ مویشی رکھتے تھے اور ہر ایک یہی چاہتا کہ میں ہی اپنے مویشی کو آرام پہنچاؤں اس لئے ان کے دارات مقاتلات بن جاتے تھے۔غرض حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اس قوم میں دو بڑے عیب تھے ایک۔بت پرستی۔دوم۔باہم لڑائی۔ان دونوں کی اصلاح آپ نے فرمائی۔چنانچہ قرآن مجید