حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 43
حقائق الفرقان لدالله سُورَةُ الْبَقَرَة عقلی جواب ۔ قبل اس کے کہ عقلی جواب بیان ہو ہمیں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ عقلاء کی بعض اصطلاحات بیان کی جاویں اور اس وقت ہم صرف ویدک معتقدوں اور اسلامی فلسفوں کی اصطلاحات پر اکتفا کرتے ہیں۔ علت فاعلیہ یا فاعل کام کرنے والے کو کہتے ہیں۔ سنسکرت میں اس کا نام نمت کا رن ہے۔ علت مادیہ۔ مادہ جس سے کوئی چیز بنتی ہے اس کو اُ پادان کا رن کہتے ہیں ۔ علت صور یہ صورت ۔ شکل اور آلات وغیرہ کو سادھارن کا رن کہتے ہیں ۔ علت غاية اصل مقصود کو پر یوجن کہتے ہیں مثلاً اس کتاب کا مصنف و منظم : ا مصنف و متکلم فاعل ہے اور اس کا نیمت کارن۔ مصنف کے علوم وغیرہ اور اُپادان کا رن ہے اور اس کے آلات و اسباب مثلاً قلم و سیاہی کاغذ وغیرہ سادھارن کا رن ہیں۔ اس کا اصل مقصود یعنی نافہموں کے سامنے صداقتوں کا اظہار اس کا پر یوجن ہے۔ دلائل کی چند اور اصطلاحیں (1) الہی اقوال یا اچھے لوگوں کی بات سے سند لینا سمعی دلیل ہے اور اس کو سنسکرت میں شبد کہتے ہیں ۔ (۲) تشبیہ کو ایمان کہتے ہیں ۔ علت سے معلول کو سمجھنا لم کہلاتا اور معلول سے عدت کو سمجھنلان ہے۔ (۳) اور استقراء سے پتا لگانا تمثیل ہے اور ان سب کو انو مان کہتے ہیں۔ (۴) مشاہدات سے استدلال سنسکرت میں پر تیکش ہے حواس ظاہرہ سے استدلال ہو یا حواس باطنہ سے۔ دلائل میں پہلی دلیل شبد ہے اس سے ہم نے استدلال نقلی دلائل میں کیا ہے۔ دوسری دلیل ایمان یا تشبیہ ہے۔ اس دلیل سے ہم نے یوں کام لیا ہے کہ جس طرح مقطعات تمہارے مقدس وید میں ہیں اسی طرح ہماری مقدس کتاب میں ہیں ۔ جس طرح وہاں اسماء الہیہ لئے گئے ہیں اسی طرح یہاں لئے گئے ہیں فرق اتنا ہے کہ اسلامیوں کے پاس ایک قاعدہ ہے اور تمہارے یہاں دھینگا دھانگی ہے کہ ”آ“ سے بہ آ “ سے یہ لو اور ا سے یہ اور ”م“ سے یہ مراد لو۔ ،، تیسری دلیل انومان سے ہم نے یوں کام لیا ہے کہ ہم نے استقراء کیا ہے کہ ہندو، سناتن، آریہ، یورپ، امریکہ کے لوگ مقطعات کو اجزا کلمات تجویز کرتے ہیں ہیں تو ہم نے اسی استقراء سے مقطعات قرآنیہ کو اجزاء کلمات طیبات لیا ہے۔