حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 519
حقائق الفرقان ۵۱۹ سُورَةُ الْبَقَرَة بَاءُ بِغَضَبٍ مِنَ اللهِ (البقرة : ۲۲) کا فتوی ان پر چل گیا ۔ وہی یہود جو تمام جہان کے لوگوں پر فضیلت رکھتے تھے دنیا میں اُن کے رہنے کے لئے کوئی اپنی سلطنت نہیں ۔ جدھر جاتے ہیں بندروں کی طرح دھتکارے جاتے ہیں ۔ یہ کیوں ؟ وَ مَنْ يُبَدِّلُ نِعْمَةَ اللهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ۔ اب یہاں بنی اسرائیل نہیں بیٹھے سب مسلمان ہی ہیں ۔ مسلمانوں پر خدا نے بنی اسرائیل سے بڑھ کر انعامات کئے ۔ ان کو نہ صرف بنی اسرائیل کے ملکوں کا وارث کیا بلکہ اور ملک بھی دیئے۔ ملک شام کے علاوہ افریقہ تک حکومت دی۔ جبل الطارق پر یہی حکمران تھے۔ مشرق میں کاشغر، بخارا سے چائنا تک پہنچے لیکن جب مسلمانوں نے خدا کی نعمتوں کی قدر نہ کی تو جبل الطارق جبرالٹر بن گیا۔ کاشغر وغیرہ پر روس کی حکومت ہوگئی۔ گنگا کا کنارا اور سندھ انگریزوں کے قبضہ میں آیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ جو بنی اسرائیل نے کیا وہی مسلمانوں نے کیا۔ خدا نے ان کو ایسا دین دیا جو کل دینوں سے بڑھ کر ہے۔ ایسی کتاب دی جو کل کتب الہیہ کی جامع ہے۔ ایسا نبی دیا جو تمام انبیاء کا سردار ہے (اور احمدیوں کو تو وہ امام دیا جو تمام اولیاء کا سردار ہے ) بنی اسرائیل کے فرعون کو تو سمندر میں غرق کیا مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرعون ( ابو جہل ) کو باوجود یکہ ہم کتابوں میں یہی پڑھتے آتے تھے إِمَّا أَنْ لَّا يَكُونَ فِي الْبَحْرِ إِمَّا أَنْ يُغْرَقَ ، خشکی میں غرق کر کے دکھا دیا۔ کس قدر افسوس ہے کہ مسلمان ان نعمتوں کی بے قدری کر رہے ہیں۔ اس کتاب کی جس کو ذلِكَ الْكِتب (البقرۃ:۳) فرمایا ( یعنی اگر کوئی کتاب ہے تو یہی ہے ) کچھ پرواہ نہیں کی جاتی ۔ اس میں اس قدر علوم ہیں کہ شاہ عبدالعزیز فرماتے ہیں کتابیں جمع کرنے کے لئے ۳ کروڑ روپیہ چاہیے ( یہ ان کے زمانے کا ذکر ہے، اب تو اس قدر کتا بیں ہیں کہ کئی کروڑ روپے بھی کافی نہ ہوں ) لیکن کئی مسلمان ہیں جو اس کے ہیں جانتے۔ پھر خود پسندی ، خود رائی کا یہ حال ہے کہ نہ قرآن سے واقف ، : حدیث سے آگاہ۔ نہ حفظ نفس ، حفظ مال، حفظ اعراض کے اصول سے باخبر مگر اپنی رائے کو کلام النبی ے اور ان پر ذلت اور مسکینی کی مار پڑی اور وہ اللہ کے غضب میں آگئے ۔ (ناشر) کے یا تو یہ (ہلاکت) سمندر میں نہیں ہوگی یا یہ (سمندر میں ) غرق ہوگا۔ (ناشر) برد