حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 505
سُوْرَةُ الْبَقَرَة حقائق الفرقان اللهم أطلبُ وصَالَهُ إِنْ كَانَ مَعَ رَضَاكَ مجھ سے نماز اور زکوۃ اور روزے اور حج کے اسرار پر سوال کیا اُس وقت میں نے اسے جواب دیا۔نیازمندی دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک نیازمندی خادمانہ۔خدام کی نیاز مندی اپنے آقا اور بادشاہ کے سامنے۔دوسری نیازمندی عاشقانہ۔عاشق کی محبوب کے ساتھ۔پہلی قسم کے نیاز مند کو مناسب ہے درباری لباس پہن کر بڑے ادب اور وقار سے ما لک کے دربار میں حاضر ہو اور تمام حکام اور مربیوں کی اطاعت سے کان پر ہاتھ رکھ کر اطاعت کا اقرار کرے۔ہاتھ باندھ حکم کا منتظر رہے۔جھک کر تعظیم دے۔زمین پر ماتھا ر کھے۔حضور کے غریب نوکروں کے لئے نذر دے۔یہی مجملاً حقیقت نماز اور زکوۃ ہے۔عاشقانہ نیاز میں ضرور ہے عاشق اپنے محبوب کے سامنے عشق میں بھوک اور پیاس بھی دیکھے۔نہایت درجہ کے اس عزیز کو بھی جس کی نسبت لکھا ہے انسان کےماں باپ چھوڑ کر اس سے متحد اور ایک جسم ہوگا۔کچھ دیر کے لئے ترک کرے اور جہاں یقینی طور پر سن لیا ہو کہ میرے محبوب کی عنایات اور تو جہات کا مقام ہے وہاں دوڑتا کودتا پسر کے عمامہ اور ٹوپی سے بے خبر پہنچے۔پروانہ وار وہاں فدا ہو۔کہیں دشمنوں کی روک ٹوک کی جگہ سن پائے تو وہاں پتھر چلاوے۔یہی مجمل حقیقت روزے اور حج کی سمجھو۔مولوی محمد قاسم مرحوم نے یہ صوفیانہ تقریر مفصل اپنے کسی رسالہ میں لکھی ہے۔اس جواب پر میرے عزیز فرزند نے مجھے کہا آپ جب اسرار شرائع اسلام بیان کرتے ہیں تو ان پر دو اعتراض وارد ہوتے ہیں۔اوّل یہ اسرار جو آپ بیان کرتے ہیں اگر واقعی اور بچے ہیں تو خود خدا نے یا جناب رسالت مآب نے یا آپ کے صحابہ نے کیوں بیان نہ کئے؟ دوم ان اعمال کے ساتھ اسلام نے یہ چند رکعات اور دعائیں کیوں لگا دیں۔اگر صرف اجتماع قومی ہی جمعہ اور جماعت عیدین اور حج میں مقصود تھا؟ خاکسار نے اس عزیز سے کہا۔قانونِ قدرت پر نظر کرو۔فونوگراف لیتھوگراف۔ٹیلیگراف، چھاپہ ، ریل، اسٹیم کے اسرار عناصر میں اس وقت سے موجود ہیں جب سے عناصر کو خالق عناصر نے اے اور اسے اللہ میں اس کا وصال اگر وہ ( وصال) تیری رضا کے ساتھ ہو طلب کرتا ہوں۔(ناشر) ۲۔پیدائش ۲: ۲۴