حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 504
۵۰۴ سُوْرَةُ الْبَقَرَة حقائق الفرقان ہے۔اس کو معلوم نہیں تھا کہ خدا کیا ہے؟ البدر جلد ۹ نمبر ۱۲ مورخه ۱۳ جنوری ۱۹۱۰ ء صفحه ۲) اسلامی پانچویں اصل حج ہے۔حج کیا ہے۔اہلِ اسلام کے قومی اجتماع کا ایک سفر۔مسلمان بھائی محلے محلے کے آپس میں ہر روز پانچ دفعہ پانچ نمازوں میں باہم مل لیا کریں۔یہ بات محلوں کی مسجدوں میں پانچ بار حاصل ہو جاتی ہے اور شہر شہر کے اہلِ اسلام کا باہم ملنا برسویں روز حج کے ذریعے سے حاصل ہوتا ہے۔تمام بلاد اسلام کے مسلمان بھائیوں کے اجتماع کے واسطے صدر مقام وہ جگہ تجویز ہوئی جہاں سے ایسے عظیم الشان حکیمانہ مذہب کا نشو نما اور ابتدا شروع ہوئی۔الا ہر ایک مسلمان فقیر ہو یا امیر ہر سال اس کا وہاں جانا خلاف فطرت تھا اور خلاف امکان۔اس لئے حکم ہوا آسودہ لوگ ، استطاعت والے مسلمان وہاں جاویں۔مختلف بلاد کے حالات جاننے اور ان کے علوم وفنون کے ادھر سے اُدھر۔اُدھر سے ادھر لانے میں اصحاب استطاعت ہی غالباً عمدہ طور پر کامیابی کا ذریعہ ہو سکتے ہیں۔کمال اتحاد اور با ہم پرلے درجہ کی یکتائی کے واسطے اور اس لحاظ سے بھی کہ امراء اور رؤساء کے ساتھ ان کے غریب نوکر چاکر بھی ہوں گے اور ضرور ہے کوئی عاشق الہی غریب اور مسکین مسلمان بھی وہاں جا پہنچے۔حکم دیا تمام حجاج سادہ لباس صرف دو چادروں پر اکتفا کریں۔کسی کے سر پر عمامہ اور ٹوپی نہ ہو۔کوئی کر تہ نہ پہنے۔کمال درجے کی بے تکلفی اور سادگی سے باہم ملیں اور لبيك لبيك اللهُمَّ لَبَّيْكَ لا شَرِيكَ لَكَ کی صدا بلند کریں۔اتنابڑا اجتماع اس صدر مقام میں کہاں ہو۔شہر سے کئی کوس کے فاصلے پر نہایت بڑے وسیع میدان میں جہاں کسی مخلوق کی تعظیم کا نام ونشان ہی نہیں نہ کوئی پتھر ، نہ کوئی درخت ، نہ کوئی ندی ، نہ کوئی رتھ۔۔لطیفہ۔ذرا ناظرین صاحبان اس امر پر غور کریں۔میرے اکلوتے فرزند نے سَلَّمَهُ اللهُ وسلم ( جس کی جدائی سے نہایت سخت رنج میں ہوں۔وَ أَشْكُوا بَى وَحُزْنِي إِلَى اللهِ (يوسف: ۸) 1ء میں حاضر ہوں۔میں حاضر ہوں۔اے اللہ میں حاضر ہوں۔تیرا کوئی شریک نہیں۔کے اللہ تعالیٰ اُسے سلامتی عطا فرمائے۔(ناشر) سے میں اپنے ہم وغم کا اللہ سے ہی اظہار کرتا ہوں۔( ناشر )