حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 499
حقائق الفرقان ۴۹۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة دیکھا کہ جن کے متعلق پھانسی کا حکم دیا گیا تھا۔وہ چار پائی پر بیٹھے ہیں اور کچھ سکھ مجھ کو دکھائے گئے جو زمین پر بیٹھے تھے۔میں نے اس کی تعبیر یہ کہی کہ یہ سب چھوٹ جاویں گے اور اس کے قاتل وہ سکھ ہیں جوسزا پائیں گے۔میں نے اس حج سے جا کر کہا کہ آپ کا فتوی جھوٹ ہے اس نے کہا کہ کل ۹ بجے دیکھ لینا۔میں نے اس کو کہا کہ ہم کو بھی کسی نے بتا دیا ہے۔اس نے کہا تمہیں خبر نہیں میرے فیصلہ کی اپیل بھی نہیں وہ اب چھوٹ نہیں سکتے۔میں نے کہا کچھ ہو وہ مجرم نہیں قاتل اور ہیں اور یہ چھوٹ جاویں گے اور مرتے نہیں۔ان گرفتاروں میں بعض میرے بھی آشنا تھے۔ٹھیک ۹ بجے جب کہ ان کی پھانسی کا مقررہ وقت تھا۔سیالکوٹ سے تار آ گیا کہ اصل مجرم پکڑے گئے ہیں ان کو یہاں بھیج دو۔مقدمہ یہاں منتقل کر دو۔میں نے اس حج کو کہا کہ اب تو چھوٹ گئے۔اس نے کہا کچھ پرواہ نہیں مقدمہ وہاں چلا جاوے۔میں نے ایسے وجوہات لکھے ہیں کہ یہ بیچ سکتے ہی نہیں۔مگر وہاں تحقیقات پر مقدمہ نئی طرز کا ہو گیا اور وہ رہا ہو گئے۔تب وہ حج کہنے لگا بڑا آشچرج ہے۔تب اس نے پوچھا کہ اب کون سزا پائے گا میں نے کہا دو سکھ ہیں۔ان مجرموں میں ایک سرکاری گواہ وعدہ معافی پر بن گیا۔وہ بچ گیا اور باقی پھانسی پاگئے۔اس پر اس حج نے کہا کہ ایک تو بچ گیا۔میں نے کہا کہ مجھے تو یہ نہیں دکھایا گیا کہ یہ بچے۔چنانچہ اس نے وہاں سے نکل کر خوشی میں شراب پی اور شراب پی کر ایک لڑکی کو چھیڑا۔اس کے رشتہ داروں نے وہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔اس قسم کے عجائبات بہت ہوتے ہیں۔صدقات اور خیرات واقعی انسان کو بہت سے عذابوں سے بچالیتے ہیں اور یہ انسانی فطرت اور عام اقوام کے طرز عمل میں داخل ہے جو لوگ اپنے اموال میں سے خیرات کا حصہ نہیں نکالتے وہ ہلاکت کی طرف چلے جاتے ہیں۔اس لئے قرآن مجید نے کامیابی کا یہ اصل تعلیم کیا کہ مومن کامیاب ہونے والے مومن اپنے اموال سے زکوۃ دیتے ہیں۔اس لئے مومن کا یہ کام ہونا چاہئے۔اپنی سرگزشت رابعہ بصری کے قصہ کا میں آپ بھی تجربہ کار ہوں۔طالب علمی کے زمانہ میں ایک مرتبہ میں نے نہایت عمدہ صوف لے کر دوصدریاں بنوائیں اور انہیں