حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 498
حقائق الفرقان ۴۹۸ سُورَةُ الْبَقَرَة اور ان مہمانوں کو کھلا دیں جس سے وہ سیر ہو گئے۔بعض جگہ ایک روٹی اتنی بڑی ہوتی ہے کہ ایک آدمی مشکل سے کھا سکتا ہے۔میری خالہ اتنی بڑی روٹی پکاتی تھیں کہ محلہ میں بانٹ دیتے۔غرض رابعہ جانتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ اَمْثَالِهَا (الانعام: (۱۶) وہ لونڈی اس راز سے آگاہ نہ تھی۔اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ کرشمہ دکھا دیا۔ایسا ہی ایک شخص کو پھانسی کا حکم ہوا اسے ایک آدمی راستہ میں ملا تو اس نے اس کو دو پیسے کا سوال کر دیا اس نے اس کو دو پیسے دے دیئے۔سپاہیوں نے بھی تعرض نہ کیا وہ جانتے تھے کہ اب تو اس کو پھانسی کی سزا ہوگئی ہے۔آگے نان بائی کی دوکان تھی وہاں سے اس نے دو پیسہ کی روٹی خرید لی جب اور آگے گئے تو اس کے کان میں ایک سوالی کی آواز آئی۔تیرا دو ہیں جہا نہیں بھلا ہو کچھ کھلا دے؟ اس نے اس کو دونوں روٹیاں دے دیں۔ادھر یہ واقعہ پیش آیا کہ جب یہ شخص پھانسی کے مقام پر پہنچا اور اس کے تختہ پر قدم رکھا۔بادشاہ کو کسی نے کہا کہ اس مقدمہ کی اصلیت تو یہ ہے۔بادشاہ نے یہ سن کر فوراً سوار بھیجا کہ اس کو پھانسی نہ دی جاوے تحقیقات ہوگی اور اس طرح پر اس صدقہ نے اس کو بچا دیا۔یہ واقعات ہیں مگر ان کے ماننے کے لئے ایمان کی ضرورت ہے۔میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہے ایک ہمارا محسن اور آشنا تھا وہ مارا گیا۔جس روز وہ مارا گیا اس کے ایک ملازم نے مجھے کہا کہ آج نہیں جانا میں نے انکار کر دیا راستہ میں اس کو دشمن نے مار ڈالا۔ہمارے ساتھ اس کے بڑے بڑے سلوک تھے اس کے مقدمہ کی تحقیقات ہونے لگی۔مجھے اس حج سے ملنے کا موقع ملا جس نے تحقیقات کی تھی۔اس نے بتایا کہ اس مقدمہ کی اصلیت ہم نے معلوم کر لی ہے اور کل اتنے آدمیوں کو پھانسی لگ جاوے گی۔میں اس کے پاس سے اٹھا تو ایک غلبہ نیند کا ہوا۔میں لیٹ گیا تو میں نے جو کوئی نیکی لے کر آوے تو اس کے لئے اُس کا دس درجہ بڑھ کر فائدہ ہے۔(ناشر)