حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 497
حقائق الفرقان ۴۹۷ سُورَةُ الْبَقَرَة ضروریات کو پیش نظر رکھ کر ان میں دینے کے لئے کوشش کرو۔صحابہ کی سوانح پڑھتا تمہیں معلوم ہو کہ کیا کرنا پڑا تھا۔تم جو ان سے ملنا چاہتے ہو وہی راہ اور رنگ اختیار کرو۔اللہ تعالیٰ ہم تم سب کو اس امر کی توفیق دے کہ ہم سچے مسلمان بنیں اور امام کے متبع ہوں۔آمین الحکم جلدے نمبر ۴ مورخه ۳۱ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷ ) انفاق فی سبیل اللہ کی حقیقت اور اس کے اسرار قرآن مجید اور احادیث میں اور آثار میں بہت ملتے ہیں۔ایک موقع پر فرمایا ہے اَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرة: ١٩٢)۔فرمایا اپنے اموال کو اللہ کی راہ میں خرچ کروا گر نہیں کرو گے تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال دو گے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا انسان کو ہلاکت سے بچاتا ہے مخلوق الہی سے احسان کرنے کے نتائج و ثمرات کے قصے میں تمہیں کیا سناؤں اور کہاں تک سناؤں ان سے تو ایک کتاب بنتی ہے تاہم میں تمہیں دو گواہیاں سناتا ہوں اور اگر اپنی شہادتیں سناؤں تو کہو گے باتیں بناتا ہے۔رابعہ بصری کے پاس ایک مرتبہ میں مہمان آگئے۔ان کے گھر میں اس وقت صرف دور وٹیاں تھیں انہوں نے سوچا کہ ان دو روٹیوں سے ان مہمانوں کو تو کچھ بھی نہ ہوگا بہتر ہے کہ اللہ سے سودا کرلوں۔اتنے میں کوئی سائل آیا اور انہوں نے وہ دو روٹیاں اپنے نوکر کی معرفت اس کو دے دیں۔نوکر حیران ہوا کہ دو بھی ہاتھ سے دے دیں۔مگر رابعہ جانتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے عَشْرُ أَمْثَالِهَا (الانعام: ۱۶۱) کا وعدہ کیا ہوا ہے۔تھوڑی دیر کے بعد ایک خادمہ کھانا لے کر آئی کسی بیوی نے ان کے گھر میں بھیجا تھا۔رابعہ نے اس خادمہ سے پوچھا کہ کتنی روٹیاں ہیں اس نے کہا ، ۱۸۔تب رابعہ نے کہا لے جاؤ۔یہ میری نہیں ہیں۔انہیں تو اللہ تعالیٰ پر ایمان تھا کہ دو کی بجائے ہیں آنی چاہئیں۔غرض وہ خادمہ جب لوٹ کر گئی تو اس کی مالکہ نے اسے ڈانٹا کہ تو اتنی دیر کہاں رہی میں نے رابعہ کے گھر کھا نا بھجوانا تھا۔اس لونڈی نے وہ قصہ سنایا تو مالکہ نے کہا کہ وہ حصہ تو رابعہ کا نہ تھا۔پھر وہ ہیں روٹیاں لے کر گئی تو رابعہ نے لے لیں ے اُس کا دس درجہ بڑھ کر فائدہ ہے۔(ناشر)