حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 492
حقائق الفرقان ۴۹۲ سُورَةُ الْبَقَرَة کو دوست نہیں رکھتا۔(نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۸۸) وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ الله (البقرۃ: ۱۹۱) اللہ تعالیٰ کی راہ میں، اعلاء کلمتہ اللہ میں، اللہ کے بندوں کی عزت اور وقعت کے لئے دشمنان دین، دشمنان قرآن کریم، نبی کریم کے دشمنوں، آپ کے جانشینوں کے دشمنوں سے مقابلہ کرو مگر اس راہ سے جس راہ سے وہ مقابلہ کرتے ہیں۔وہ اگر تلوار اور تیر سے کام لیں تو تم بھی تلوار اور تیر سے کام لو۔لیکن اگر وہ تدابیر سے کام لیتے ہیں تو تم بھی تدابیر ہی سے مقابلہ کرو۔ورنہ اگر اس راہ سے مقابلہ نہیں کرتے تو یہ اعتدا ہو گا اور اللہ تعالیٰ اعتدا کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔غرض جو راہ دشمن اختیار کرے اسی قسم کی راہ اختیار کرو۔الحکم جلد ۵ نمبر ۵ مورخه ۱۰ / فروری ۱۹۰۱ صفحه ۴ تا ۶ ) پھر قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللهِ (البقرة: 191 کی تفسیر میں فرمایا کہ اسلام کے دشمن اسلام کے خلاف کوشش کرتے رہتے ہیں۔مسلمانوں میں نہ تعلیم ہے، نہ روپیہ، نہ وحدت، نہ اتفاق، نہ وحدت کے فوائد سے آگاہ نہ پیجہتی کی روح ، نہ اپنی حالت کا علم۔ملاں کی ذلیل حالت دیکھ کر مسجدوں میں جانا تک چھوڑ دیا۔تم سنبھلو اور ان کوششوں کے خلاف دشمن کا مقابلہ کرومگر حد سے نہ بڑھو۔اپنے مومن بھائیوں سے حسن ظنی کرو۔ایک نے مجھے کہا تھا حسن ظنی کر کے کیا کریں۔اس میں سراسر نقصان ہے۔میں نے کہا کم از کم اپنی والدہ کے معاملہ میں تو تم کو بھی حسن ظنی سے کام لینا پڑے گاور نہ تمہارے پاس اپنے باپ کے نطفہ سے ہونے کا کیا ثبوت ہے؟ اسلام پر قائم رہو۔یہ وہ مذہب ہے جس کا مانے والا کسی کے آگے شرمندہ نہیں ہوتا۔اس کا اللہ تمام خوبیوں کا جامع ہے۔البدر جلد ۸ نمبر ۴۵ مورخه ۲ ستمبر ۱۹۰۹ء صفحه ۱) ١٩٢ - وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ وَ اَخْرِجُوهُم مِّنْ حَيْثُ اَخْرَجُوكُمْ وَ الْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقْتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّى يُقْتِلُوكُم b فِيهِ فَإِنْ قَتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ - كَذلِكَ جَزَاءُ الكَفِرِينَ - ترجمہ۔اور قتل کرو ان کو جہاں پاؤ اور نکال دوان کو جہاں سے انہوں نے تم کو نکال دیا اور دکھ دینا قتل