حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 490
حقائق الفرقان ۴۹۰ سُورَةُ الْبَقَرَة تیسرا۔يَسْتَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَهَا ( النازعات: ۴۳) پوچھتے ہیں وہ گھڑی کب ہوگی؟ جس کا جواب ديا فِيمَ اَنْتَ مِنْ ذِكريها - إلى رَبِّكَ مُنْتَههَا (النازعات: ۴۵،۴۴) تجھے ایسے قصوں سے کیا۔اس کا علم رب تک ہے۔چوتھا۔يَسْتَلْكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ (الاحزاب: (۶۴) پوچھتے ہیں اس ساعت سے۔جس کا جواب دیا۔إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللهِ (الاحزاب : ۶۴) اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔پانچواں - يَسْتَدُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا (الاعراف: ۱۸۸) جس کا جواب دیا عِلْمُهَا عِندَ اللہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا تو ایسی باتوں کے پیچھے پڑا ہو ا ہے۔اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔لاکن اس سوال کا جواب نہ دینے سے نبوت میں کوئی نقص نہیں آتا کیونکہ حضرت مسیح فرماتے ہیں۔اس دن اور اس گھڑی کو میرے باپ کے سوا آسمان کے فرشتہ تک کوئی نہیں جانتا۔(متی ۲۴ باب ۳۶) اور جگہ فرماتے ہیں۔اس دن اور اس گھڑی کی بابت سوا باپ کے نہ تو فرشتے جو آسمان پر ہیں اور نہ بیٹا کوئی نہیں جانتا ہے۔(مرقس ۱۳ باب ۳۲) سائل اور اس کے ہم خیال غور کریں۔اس گھڑی کی بابت حضرت مسیح کیا فتوی۔ایسی گھڑی کا وقت نہ بتانا اگر نبوت اور رسالت میں خلل انداز ہے تو حضرت مسیح کی نبوت اور رسالت بلکہ عیسائیوں کی مانی ہوئی مسیح کی الوہیت میں خلل پڑے گا۔ایک عیسائی کے تین سوال اور اُن کے جوابات۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۱۴ تا ۱۹) پھر آپ نے يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ (البقرة : ۱۹۰ ) پڑھ کر فرمایا کہ صحابہ نے رمضان کے مہینے کی برکات سن کر دوسرے چاندوں کی نسبت بھی پوچھا۔اصل میں تمام عبادتیں چاند سے متعلق ہیں اور دنیا داروں کی تاریخیں سورج سے۔اس میں یہ نکتہ ہے کہ چاند کے حساب پر عبادت کرنے کی وجہ سے سورج کی کوئی تاریخ خالی نہیں رہتی جس میں امت محمدیہ کے افراد نے روزہ نہ رکھا ہو یا ز کوۃ نہ دی ہو یا حج نہ کیا ہو۔کیونکہ قریباً گیارہ روز کا ہر سال فرق پڑتا ہے اور ۳۶ سال کے بعد وہی دن پھر