حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 489 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 489

حقائق الفرقان ۴۸۹ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ہے۔ہاں ممکن ہے کہ ہم اس آیت میں روح کے معنے اُس فرشتہ کے لیں جو وحی لاتا تھا اور جس کا نام اسلامیوں میں جبرائیل ہے۔یا یوں کہیں کہ روح کے مخلوق اور غیر مخلوق ہونے کا سوال ہوا۔جواب دیا گیا۔رُوح حادث اور رب کے حکم سے ہوا ہے۔تیرھواں سوال۔يَسْتَلْكَ اَهْلُ الْكِتب ( النساء: (۱۵۴) ما نگتے ہیں تجھ سے یہودی اور عیسائی اہل کتاب اَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتبًا مِّنَ السَّمَاءِ (النساء : (۱۵۴) کہ ان پر اتار دے تو ایک کتاب آسمان سے۔یہ سوال اہلِ کتاب نے اس لئے کیا کہ محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وسلم ) نے دعوی کیا ہے کہ میں موسی کی مانند نبی ہوں اور وہی ہوں جس کی بابت توریت استثناء کے ۱۸ باب ۱۸ میں پیشگوئی موجود ہے اور اس نبی کی پیشگوئی تو ریت میں اس طرح لکھی تھی۔”تجھ سا ایک نبی بر پا کروں گا اور اپنا کلام اسکے منہ میں ڈالوں گا“۔(استثناء ۱۸ باب (۱۸) پس لا محالہ اس نبی کے واسطے کوئی ایسی کتاب آسمان سے نہ اترے گی جو لکھی لکھائی آجاوے کیونکہ توریت میں تو لکھا ہے اپنا کلام اس کے منہ میں دوں گا، پس ایسے سوال کے جواب میں فرمایا۔فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَى أَكْبَرَ مِنْ ذَلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً ( النساء: ۱۵۴) باقی پانچ سوال یہ ہیں جن کے جواب میں حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ فرمایا ہے۔میرا رب جانتا ہے۔اول - يَسْتَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرسهَا (الاعراف: ۱۸۸) پوچھتے ہیں قیامت کی گھڑی کب ہوگی؟ جواب دیا قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللهِ (الاعراف:۱۸۸) تو کہہ اس کا علم میرے رب ہی کے پاس ہے۔دوسرا - يَسْتَلُونَ أَيَّانَ يَوْمُ الدِّينِ (الذريت : ۱۳) پوچھتے ہیں جزا کا دن کب ہوگا۔جس کا جواب کچھ نہیں دیا۔غالباً اس لئے کہ وہ ہمیشہ ہی یا کہ اس لئے کہ ان کی مراد قیامت ہے۔لے بے شک موسیٰ سے تو اس سے بڑھ کر درخواست کر چکے ہیں انہوں نے کہا تھا کہ ہم کو دکھا دے اللہ کو کھلم کھلا۔(ناشر)