حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 488 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 488

حقائق الفرقان ۴۸۸ سُورَةُ الْبَقَرَة تمہارے لئے تمام وہ چیز میں جو غالب عمرانات کے سلیم الفطرتوں میں ستھرے اور پسندیدہ ہیں وہ تو حلال کر دی گئیں۔نواں سوال - يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ (الانفال: ۲) تجھ سے پوچھتے ہیں غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ تو جواب دے۔اَلْاَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ غنیمت کی تقسیم اللہ پھر رسول کے اختیار میں ہے۔دسواں سوال۔يَسْتَلُونَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ (الكهف: (۸۴) ذوالقرنین کا قصہ تجھ سے پوچھتے ہیں تو جواب میں قصہ سنا دے۔انا مَكَنَّا لَهُ فِي الْأَرْضِ (الكهف: ۸۵) سے ذوالقرنین کا قصہ شروع کر دیا اور بقدرضرورت اسے تمام کیا۔یہ ذوالقرنین وہ ہے جس کا ذکر دانیال ۸ باب ۸ میں ہے۔گیارھواں سوال - وَ يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ (طه: ۱۰۲) تجھ سے پوچھتے ہیں ایسے مضبوط پہاڑ کیا ہمیشہ رہیں گے؟ تو جواب دے۔يَنْسِفُهَا رَبِّي نسفا (طه : ١٠٦) اُڑا دے گا اور پہاڑوں کو پاش پاش کر دے گا میرا رب۔بارھواں سوال - يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوح (بنی اسراءيل : ۸۶) تجھ سے سوال کرتے ہیں قرآن کس کا بنایا ہؤا ہے؟ تو جواب دے۔مِنْ اَمرِ رَبِّي (بنی اسراءیل : ۸۲) یہ قرآن میرے رب کا حکم اور اسی کا کلام ہے۔یا درکھو میں نے روح کا ترجمہ قرآن کیا ہے اس کے کئی باعث ہیں۔اول۔قرآن میں خود اس وحی اور کلام الہی کو رُوح کہا گیا۔وَ الْقُرْآنُ يُفَتِرُ بَعْضُهُ بَعْضًا دیکھو وَ كَذلِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا (الشوری: ۵۳) اور اس طرح وحی کی ہم نے تیری طرف رُوح اپنے حکم سے۔دوم - يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوح (بنی اسرائیل:۸۶) کے ماقبل اور مابعد صرف قرآن کریم کا تذکرہ ا ہم نے اس کو قدرت دی تھی ملک میں۔( ناشر )