حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 480 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 480

حقائق الفرقان ۴۸۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة نہیں جو ان کھانوں سے روکنے والا ہو مگر یہ اس لئے استعمال نہیں کرتا کہ مولیٰ کریم کے حکم کی خلاف ورزی نہ ہو۔جبکہ یہ حال ہے کہ ایسی حالت اور صورت میں کہ اس کی عمدہ سے عمدہ نعمتیں جو اس کے بقائے نفس کے لئے اشد ضروری ہیں یہ صرف مولیٰ کریم کے حکم کی رضامندی کی خاطر ان کو چھوڑتا ہے اور پھر دیکھتا ہے کہ چھوڑ سکتا ہے تو بھلا ایسا انسان جو خدا کے لئے ضروری چیزیں چھوڑ سکتا ہے وہ شراب کیوں پینے لگا اور خنزیر کیوں کھانے لگا جس کی کچھ بھی ضرورت نہیں ہے؟ یا مثلاً کوئی رشوت خور ربا خوری کرنے والا یا چور یا ایسا انسان جو قرض لیتا ہے کہ ادا کرنے کی نیت نہیں ہے جبکہ دیانت داری سے کام لیتا ہے اور مولیٰ کریم کی اجازت اور پروانگی کے سوا کچھ نہیں کرتا وہ ایسا خبیث مال لینے میں کیوں جرأت کرے گا ؟ ہر گز نہیں۔اسی طرح گھر میں حسین جوان بیوی موجود ہے مگر اللہ ہی کی رضا کے لئے تیس دن چھوڑ سکتا ہے تو بد نظری کے لئے جی کیوں للچائے گا ؟ غرض رمضان شریف ایک ایسا مہینہ تھا جو انسان کو تقوی ، طہارت، خدا ترسی، صبر و استقلال ، اپنی خواہشوں پر غلبہ، فتمندی کی تعلیم عملی طور پر دیتا تھا۔ان ترقیوں کو دیکھ کر جو صحابہ نے رمضان میں تقوی میں کی تھیں۔انہوں نے دوسرے مہینوں کے فضائل و فوائد سننے کی خواہش ظاہر کی اور سوال کیا۔اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا جواب یوں دیا تھا قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ۔کہہ دولوگوں کے فائدہ کے لئے یہ وقت مقرر فرمائے ہیں۔کیسا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جس کو صحت ، فرصت ، پھر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے علم بھی عطا ہوا ہے اور اگر نہیں تو کوئی دردِ دل سے سنانے والا موجود ہے۔عاقبت اندیشی کی عقل دی ہے مگر باوجود اس قدر اسباب اور سہولتوں کے میسر آ جانے پر بھی اگر اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی فکر نہیں کرتا اور منافع اُٹھانے کی سعی میں نہیں لگتا تو اس سے بڑھ کر بد قسمت کون ہوسکتا ہے۔مَوَاقِيتُ لِلنَّاس۔کیا عجیب وقت بنایا ہے تمہارے فائدہ کے لئے اور نفع اٹھانے کا بہت بڑا موقع دیا ہے اور اس لئے بھی کہ تم حج کرو۔یا در کھوج اللہ کی سنن میں سے ہے۔یہ ایک سچی بات ہے کہ جہاں بدکاریاں کثرت سے ہوں وہاں غضب الہی نازل ہوتا ہے