حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 39
حقائق الفرقان ۳۹ سُورَةُ الْبَقَرَة حروف مقطعات سے متعلق ایک اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا۔) اوّل ۔ اگر مقطعات کا استعمال معمے و چیستان اور پہیلی ہے اور اس لئے تم کو اس سے تنفر ہے تو ایف۔اے اور پھر بی ۔اے کیوں ہوئے اور اس پر تمہارا فخر کیوں ہے؟ تم نے بی ۔ اے ہونے سے دکھایا ہے کہ تم نے دھو کہ نہیں کھایا اور بی۔ اے وغیرہ تو مقطعات ہیں۔ مطلب تم نے خوب سمجھ لیا کہ بی ۔ اے اگر معما نہیں تو اللہ کیوں لمعما ہے؟ - دوم ۔ تمہارا منہ کالا کرنے کو اس وقت تمام دنیا کے مہذب ہلا د اور تعلیم یافتہ قوموں کی دکانوں، مکانوں، چیزوں ، ناموں ، مہدوں ، ڈگریوں اور اعلیٰ عزت و عظمت کے خطابوں میں انہی معمے و پیلی و مقطعات کا استعمال ہو رہا ہے ۔ لوگوں نے ہی عام طور پر اس کو قبول نہیں کیا بلکہ گورنمنٹ نے اپنے محکموں، ریلوں ، سٹیشنوں کو بھی یہی ٹیکا لگایا ہے۔ فارن آفس کی تمام تحریروں کا انہیں پر مدار ہے جو حکومت کی اصل کل ہے ۔ ڈی ۔ای ۔ وی ۔ دیانندی کا لج اِس پہیلی سے زینت یافتہ ہے ۔ یونانی (1) اغطس - اگست ، ایلوس ، برس ، سال ،ایٹیکو پرانے وغیرہ پندرہ کلمات کے اختصار پر بولا کرتے تھے (ل) لوئیس ۔ لوکس ۔ جگہ کے معنی میں ۔ (م) مجسٹریٹ ۔ مانو منٹ بمعنی یادگار پر بولتے ہیں ۔۔۔ اوم کا لفظ جو آ ۔ ارم کے مقطعات سے بنا ہے۔ اپنے ابتدا اور انتہا سے قرآن کے مقطع اللہ کے الف پہلے حرف اور میم آخری حرف کا شاہد ہے ۔۔۔۔۔ صحابہ کرام نے فرمایا ہے۔ (دیکھ یہ وہی اصحاب الرسول ہیں جن کی نسبت تو نے بکواس کی ہے کہ اصحاب الرسول بھی زور لگا چکے مگر ۔۔۔۔۔۔ ابن جریر ۔ معالم التنزیل ۔ ابن کثیر ۔ تفسیر کبیر در منثور وغیرہ میں لکھا ہے علی المرتضیٰ ، ابن مسعود اور ناس من اکثر اصحاب النبی اور ابن عباس رضوان اللہ علیہم کے نزدیک یہ تمام حروف جو سورتوں کے ابتدا میں آئے ہیں اسماء الہیہ کے پہلے اجزا ہیں ۔ ابن جریر نے بہت بسط سے اس بحث کو بیان کیا ہے اور کہا ہے کہ قرآن کریم ہا کھلی عربی میں ہے پس ممکن نہیں کہ اس میں ایسے الفاظ ہوں جو ہدایت عامہ کے لئے نہ ہوں پھر اے بی ۔ اے کو بھی کوئی کوئی سمجھتا ہے اور اللہ کو بھی کوئی کوئی ۱۲ منہ