حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 479
حقائق الفرقان ۴۷۹ سُورَةُ الْبَقَرَة سے مقابلہ کرو تونفس کے لئے نہیں بلکہ محض اللہ کے لئے ۔ رسول کریم نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنی شجاعت کے اظہار کے لئے لڑتا ہے۔ کوئی اپنی قوم کی عزت و جلال کے لئے ۔ کوئی کسی خیال سے۔ کوئی کسی خیال سے مگر جو لڑتا ہے کلمتہ اللہ کے اعلاء کے لئے وہی خدا کے نزدیک سچا مجاہد ہے۔ اب بتاتا ہے کہ لڑائی کرو تو کن سے کرو۔ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۴، ۲۵ مورخه ۸ و ۱۵ را پریل ۱۹۰۹ صفحه ۳۲، ۳۳) یہ رکوع شریف جو میں نے ابھی پڑھا ہے یہ رمضان شریف کی تاکیدوں اور اس کے احکام اور فضائل اور فوائد کے بیان کے بعد نازا کے بعد نازل فرمایا گیا ہے۔ اس رکوع کا مضمون اور مطلب رمضان کے بعد ہی سے بلا فصل شروع ہوتا ہے جو آج کی تاریخ ہے۔ یہ مہینہ ایک ایسا مہینہ ہے کہ بہ نسبت اور مہینوں کے ایک خاص فضل اور انعام مسلمانوں پر اس میں نازل ہوا ہے۔ گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا یہی مہینہ ابتدائی سال ہے۔ آخر رمضان میں جو وحی نازل ہوئی ہے تو تبلیغ شوال ہی سے شروع فرمائی ہے۔ وہ جونور تاریکیوں سے دُور کرنے کے واسطے اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا اور جس کا ذکر انزَلْنَا إِلَيْكُم نُورا میں کیا ہے اس کا شروع یہی مہینہ ہے۔ رمضان میں تقوی کا سبق یوں ملتا ہے سخت سے سخت ضرورتیں بھی جو بقائے نفس اور بقائے نسل کے لئے ضروری ہیں ان کو بھی روکنا پڑتا ہے۔ بقائے نفس کے لئے کھانا پینا ضروری چیز ہیں اور بقائے نسل کے لئے بیوی سے تعلق ایک ضروری شے ہے مگر رمضان میں کچھ عرصہ کے لئے یعنی دن بھر ان ضرورتوں کو خدا کی رضا مندی کی خاطر چھوڑنا پڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ سبق سکھایا ہے کہ انسان جب بڑی ضروری خواہشوں اور ضرورتوں کو ترک کرنے کا عادی ہوگا تو غیر ضروری کے چھوڑ نے میں اس کو کیسی سہولت ہوگی ۔ دیکھو ایک شخص کے گھر میں تازہ دودھ ٹھنڈے شربت ، انگور، نارنگیاں موجود ہیں۔ پیاس کے سبب سے ہونٹ خشک ہو رہے ہیں ۔ کوئی روکنے والا نہیں۔ باوجود سہولت اور ضرورت کے اس لئے ارتکاب نہیں کرتا کہ مولیٰ کریم ناراض نہ ہو جائے اور اسی طرح عمدہ عمدہ کھانے ، پلاؤ، کباب اور دوسری نعمتیں میسر ہیں اور بھوک سے پیٹ میں بل پڑ جاتے ہیں اور پھر کوئی اے ہم نے اتارا تمہاری طرف جگمگاتا ہوا نور۔