حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 478
حقائق الفرقان ۴۷۸ سُورَةُ الْبَقَرَة حصول کے ذریعے بتائے ہیں چنانچہ ان میں سے ایک ذریعہ کا ذکر پچھلے رکوع میں فرمایا کہ روزے رکھو۔مناہی سے بچنے کی مشق کرتے رہو۔جب ایک مہینہ کی نسبت صحابہ کو یہ علم ہوا کہ اس میں یہ فضیلتیں ہیں تو انہوں نے دوسرے تمام چاندوں کی نسبت بھی سوال پیش کیا۔یہ شانِ نزول ہے يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ کا تو فرمایا کہ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَج وَلَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَأْتُوا الْبُيُوت۔اِس سے پہلے ایک دفعہ جو لیس البر آیا اس میں بتایا کہ تم مشرق و مغرب کے فاتح ہو جاؤ گے مگر تقوی نہیں تو کچھ بھی نہیں۔یہاں یہ بتایا کہ ظاہری رسوم کی پابندی کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی جب تک کہ اس کی روح پر تمہارا عمل نہ ہو۔ہمارے علاقہ ( بھیرہ ضلع شاہ پور ) میں ایک رسم ہے کہ حرام کا دودھ الگ برتنوں میں رکھتے ہیں اور حلال کا الگ برتنوں میں۔مٹی کے برتنوں کا تو بڑا اہتمام ہوتا ہے مگر پیٹ میں سب کچھ جمع کر لیتے ہیں۔اس ظاہر داری پر کیسا افسوس آتا ہے کہ مٹی کے برتن میں تو حلال و حرام کے لئے تفرقہ کر لیں مگر حقیقی برتن ( پیٹ) کے لئے کچھ پرواہ نہ کریں۔اسی طرح نمازوں میں صفیں سیدھی کرنے کی تو بہت تاکید ہوتی رہتی ہے مگر جو اس کا اصل مقصد ہے جب وہ نہ ہوتو یہ ایک معمولی رسم رہ جائے گی۔وہ یہ کہ کوئی بڑا بن کر آگے نہ ہو اور پیچھے نہ ہو اور آپس میں ایک جان ہو کر رہو۔پس اگر تم ایک نہ ہو جاؤ اور دلوں میں کھوٹ رہے تو پھر ٹخنے کا ٹخنے سے ملانا عبث ہے۔وَأتُوا الْبُيُوتَ مِن أبوابها۔ہر ایک چیز کے حصول کے لئے ایک راہ ہوتی ہے پس اسی راہ سے اسے طلب کر و۔جب انسان اس راہ پر نہ چلے گا تو منزل مقصود کو ہرگز نہ پہنچے گا۔ان میں ایک رسم بھی تھی کہ گھروں میں واپس آتے تو چھت پھاڑ کر گذرتے۔اس سے منع فرمایا کہ یہ رسم ہے اس کے اصل کی طرف توجہ کرو۔وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ - أَى أَنْتُمْ تَصِيرُونَ مُفْلِحِینَ یعنی تم تقوی اختیار کرو شاید کہ وہ مصلح تم ہی ہو جاؤ۔وہی مفلحون جن کا ذکر رکوع نمبر میں آیا ہے۔میں کہتا ہوں کہ تم بھی (اے احمد یو!) اپنے دلوں کو صاف کرو۔منصوبہ بازیوں میں شریک نہ ہو۔کسی