حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 477 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 477

حقائق الفرقان ۴۷۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة جتھے تھے وہ بھی ہار کر افریقہ میں چلے گئے۔جب جتھے والوں کی یہ حالت تھی تو جن کا جتھا نہیں تھا ان کی حالت خود ظاہر ہے۔صرف اسی بات کی طرف غور کر کے ان کے مشکلات کا اندازہ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے پیارے وطن کو چھوڑ کر افریقہ چلے گئے جو بالکل بیابان و غیر آباد تھا۔پھر وہاں تک پہنچنا بھی کوئی آسان نہیں تھا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو تین برس آئے وہ تو ایسے تھے کہ بڑی مشکلات کا سامنا تھا۔کسی سے نکاح نہیں کر سکتے روٹی وغیرہ کسی کے ساتھ نہیں کھا سکتے۔کوئی ان کو سلام نہیں دیتا تھا۔غلہ جو باہر سے آتا تھا اسے بنی ہاشم خرید نہیں سکتے تھے۔پھر تیسری تکلیف یہ تھی کہ جب آپ مدینہ میں چلے گئے تو بد بخت لوگوں نے مدینہ کے اردگرد شام کی تجارت کا بہانہ بنا کر تمام نواحی مدینہ کی قوموں پر رُعب ڈالنے کے لئے قافلے پر قافلے بھیجنے شروع کئے۔چوتھی بات تکلیف کی یہ تھی کہ وہاں بھی دشمن موجود تھے۔بنو قینقاع، قریظہ، بنونضیر، عیسائی وغیرہ سات قوموں کا جمگھٹا تھا۔ان سب ضرر دینے والوں کے ظلم و ستم سے بچنے کے لئے جہاد کے سواکوئی تدبیر نہ تھی۔چنانچہ یہ سورۃ اؤل سے آخر لو تک جہاد کی ترغیب میں نازل ہوئی پہلے رکوع میں اُولبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (آیت:۲) فرما کر یہی اشارہ کیا ہے۔مفلح کہتے ہیں اُسے جس کے سر پر فتمندی کا تاج ہو۔پھر تیسرے رکوع میں بشیر الَّذِينَ آمَنُوا فرما کر مفتوح ملکوں کا نقشہ دکھایا ہے کہ ان میں نہریں بہتی ہوں گی۔باغ ہوں گے جن کے وارث مومن ہوں گے اور اس کے ساتھ کفار کی نسبت فرمایا ہے کہ وہ نارالحرب میں ہلاک ہوں گے۔پھر بنی اسرائیل کا ذکر کیا ہے کہ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کے حکم کے خلاف جہاد میں جانے سے مضائقہ کیا تو اِهْبِطُوا مِصْرًا (آیت:۶۲) کے ماتحت مسکنت میں کچلے گئے۔اس میں اشارہ کیا کہ تم یوں نہ کرنا۔اس کے بعد کئی طور سے ترغیبیں دی ہیں اور بتایا ہے کہ جہاد میں خوف، جوع، مال و جان کا نقصان سب کچھ ہو گا لیکن اگر تم استقلال سے کام لو گے تو پھر تمہارے لئے بشارت ہے۔ہاجرہ علیہا السلام کے واقعہ پر غور کرو کہ اس نے صبر کا کیا اجر پایا۔پھر قصاص کی ترغیب دی اور یہ بھی بتایا کہ یہ سب کچھ بیچ ہے جب تک تقوی نہ ہو کیونکہ یہی تقوی تمام کامیابیوں کی جڑ ہے۔پھر تقوی کے اے یہی لوگ نہال اور بامراد ہیں۔۲۔تم کسی شہر میں چلے جاؤ۔