حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 476
حقائق الفرقان ٤٧٦ سُورَةُ الْبَقَرَة ہوتا ہے نہ مریض کی پوری تشخیص ہوتی ہے اور پھر نہایت ہی معمولی سی جنگل کی سوکھی ہوئی بُوٹی دے کر مال حاصل کر لیتے ہیں یہ بھی سخت درجہ کا بطلان کے ساتھ مال کھانا ہے۔ وہ جو میں نے اپنے جنون کا ذکر کیا ہے چند روز ہوئے کہ ایک عمدہ کتاب بڑی خوشنما بڑی خوبصورت اور دل لبھانے والی اس کی جلد تھی جس پر رنگ لگا ہوا تھا۔ اس کو جو کہیں رکھا تو اور چیزوں کو بھی اس سے رنگ چڑھ گیا جس سے ہمیں بہت دکھ پہنچا۔ غرض ! پس جلد گر نے جو جلد کی قیمت لی ہے حقیقت میں وہ حلال مال نہیں بلکہ بطلان سے حاصل کیا ہوا ہے۔ اسی طرح اور بھی پیشے ہیں مگر ان کا ذکر میں اس واسطے نہیں کرتا کہ کسی کو رنج نہ پہنچے۔ اسی طرح خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ حکام تک مال نہ پہنچاؤ ۔ بعض لوگ یونہی لوگوں کو وسو سے ڈالتے رہتے ہیں اور لوگوں کو نا جائز طور پر پھنسانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اس لئے بعض لوگ ان سے ڈر جاتے ہیں اور نقصان اُٹھا لیتے ہیں۔ غرض روزہ جو رکھا جاتا ہے تو اس لئے کہ انسان متقی بنا سیکھے ۔ ہمارے امام فرمایا کرتے ہیں کہ بڑا ہی بد قسمت ہے وہ انسان جس نے رمضان تو پایا مگر اپنے اندر کوئی تغیر نہ پایا۔ الحکم جلدا انمبر ۴۱ مؤرخہ ۱۷ نومبر ۱۹۰۷ء صفحه ۶،۵ ) ۱۹۰ - يَسْتَلُونَكَ عَنِ الْأَهِلَّةِ قُلْ هِيَ مَوَاقِيْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ وَلَيْسَ البر بأن تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأَتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ - ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) تجھ سے لوگ نئے چاند کے (حالات ) دریافت کرتے ہیں تو جواب دے کہ اس سے لوگوں کے ( کاموں کے ) وقت معلوم ہوتے ہیں اور حج کے، اور گھروں میں پچھواڑوں کی طرف سے آنا کچھ نیکی نہیں بلکہ نیکی تو اس کی ہے جس نے اللہ کو سپر بنایا اور اللہ سے ڈرا اور گھروں میں آؤ تو دروازوں میں سے آؤ اور اللہ ہی سے ڈرو تا کہ نہال با مراد ہو جاؤ۔ تفسیر۔ یہ سورۃ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی تھی۔ مدینہ طیبہ کا وقت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر گزرا ہے اس کا پتہ چار باتوں سے لگتا ہے۔ مکہ معظمہ میں آپ کو اور آپ کی جماعت کو شدید تکلیفیں دی گئیں یہاں تک کہ جن لوگوں کے