حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 475 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 475

حقائق الفرقان ۴۷۵ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اور دغا فریب اور کئی طرح کی بددیانتیاں عمل میں نہ لائی جاویں روٹی نہیں ملتی۔یہ ان کا سخت جھوٹ ہے۔ہمیں بھی تو ضرورت ہے۔کھانے پینے پہنے ، سب اشیاء کی خواہش رکھتے ہیں۔ہماری بھی اولاد ہے ان کی خواہشوں کو ہمیں بھی پورا کرنا پڑتا ہے اور پھر کتابوں کے خریدنے کی بھی ہمیں ایک دُھت اور ایک فضولی ہمارے ساتھ لگی ہوئی ہے گو اللہ کی کتاب ہمارے لئے کافی ہے اور دوسری کتابوں کا خرید کرنا اتنا ضروری نہیں مگر میرے نفس نے ان کا خرید کرناضروری سمجھا ہے اور گو میں اپنے نفس کو اس میں پوری طرح سے کامیاب نہیں ہونے دیتا مگر پھر بھی بہت سے روپے کتابوں پر ہی خرچ کرنے پڑتے ہیں مگر دیکھو ہم بڑھے ہو کر تجربہ کار ہو کر کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ انسان کو اس کی ضرورت سے زیادہ دیتا ہے۔بد سے بد پیشہ طبابت کا ہے جس میں سخت جھوٹ بولا جا سکتا ہے اور حد درجہ کا حرام مال بھی کمایا جاسکتا ہے۔ایک راکھ کی پڑیا دے کر طبیب کہ سکتا ہے کہ یہ سونے کا کشتہ ہے فلانی چیز کے ساتھ اسے کھاؤ اور ایسے ہی طرح طرح کے دھو کے دیئے جاسکتے ہیں۔جس طبیب کو پورا فہم نہیں۔پوری تشخیص نہیں اور دوائیں دے دے کر روپیہ کماتا ہے تو وہ بھی بطلان سے مال کماتا ہے۔وہ مال طیب نہیں بلکہ حرام مال ہے۔اسی طرح جتنے جعل ساز، جھوٹے اور فریبی لوگ ہوتے ہیں اور دھوکوں سے اپنا گزارہ چلاتے ہیں وہ بھی بطلان سے مال کھاتے ہیں۔ایسا ہی طبیبوں کے ساتھ پنساری بھی ہوتے ہیں جو جھوٹی چیزیں دے کر سچی چیزوں کی قیمت وصول کرتے ہیں اور بے خبر لوگوں کو طرح طرح کے دھو کے دیتے ہیں اور پھر پیچھے سے کہتے ہیں کہ فلاں تھا تو دا نامگر ہم نے کیسا اُلو بنا دیا۔ایسے لوگوں کا مال حلال مال نہیں ہوتا بلکہ وہ حرام ہوتا ہے اور بطلان کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔مومن کو ایک مثال سے باقی مثالیں خود سمجھ لینی چاہئیں۔میں نے زیادہ مثالیں اس واسطے نہیں دی ہیں کہ کہیں کوئی نہ سمجھ لے کہ ہم پر بدخلنیاں کرتا ہے اسی واسطے میں نے اپنے پیشہ کا ذکر کیا ہے۔میں اسے کوئی بڑا اعلم نہیں سمجھتا میں اسے ایک پیشہ سمجھتا ہوں۔طبیبوں سے حکماء لوگ ڈرتے ہیں اس لئے انہوں نے اس پیشہ کا نام صنعت رکھا ہے۔یادرکھو یہ بھی ایک کمینگی کا پیشہ ہے۔اس میں حرام خوری کا بڑا موقع ملتا ہے اور طب کے ساتھ پنساری کی دکان بنانا اس میں بہت دھوکہ ہوتا ہے۔نہ صحت کا اندازہ ایسے لوگوں کو