حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 474
حقائق الفرقان ۴۷۴ سُورَةُ الْبَقَرَة اپنا کام سستی یا غفلت سے آقا کے منشاء کے موافق نہیں کرتا تو وہ حرام کھاتا ہے۔ایک دُکاندار یا پیشہ ور خریدار کو دھوکا دیتا ہے اسے چیز کم یا کھوئی حوالہ کرتا ہے اور مول پورا لیتا ہے تو وہ اپنے نفس میں غور کرے کہ اگر کوئی اسی طرح کا معاملہ اس سے کرے اور اسے معلوم بھی ہو کہ میرے ساتھ دھو کہ ہو اتو کیا وہ اسے پسند کرے گا؟ ہر گز نہیں۔جب وہ اس دھوکا کو اپنے خریدار کے لئے پسند کرتا ہے تو وہ مال بالباطل کھاتا ہے۔اس کے کاروبار میں ہرگز برکت نہ ہوگی۔پھر ایک شخص محنت اور مشقت سے مال کماتا ہے مگر دوسرا ظلم ( یعنی رشوت، دھوکا، فریب) سے اس سے لینا چاہتا ہے تو یہ مال بھی مال بالباطل لیتا ہے۔ایک طبیب ہے اُس کے پاس مریض آتا ہے اور محنت اور مشقت سے جو اس نے کمائی کی ہے اس میں سے بطور نذرانہ کے طبیب کو دیتا ہے یا ایک عطار سے وہ دوا خریدتا ہے تو اگر طبیب اس کی طرف توجہ نہیں کرتا اور تشخیص کے لئے اس کا دل نہیں تڑپتا اور عطا ر عمدہ دوا نہیں دیتا اور جو کچھ اسے نقد مل گیا اُسے غنیمت خیال کرتا ہے یا پرانی دوائیں دیتا ہے کہ جن کی تاثیرات زائل ہوگئی ہیں تو یہ سب مال بالباطل کھانے والے ہیں۔غرضکہ سب پیشہ ورحتی کہ چوڑھے چمار بھی سوچیں کہ کیا وہ اس امر کو پسند کرتے ہیں کہ اُن کی ضرورتوں پر ان کو دھوکا دیا جائے۔اگر وہ پسند نہیں کرتے تو پھر دوسرے کے ساتھ خود وہی ناجائز حرکت کیوں کرتے ہیں؟ روزہ ایک ایسی شے ہے جو ان تمام بری عادتوں اور خیالوں سے انسان کو روکنے کی تعلیم دیتا ہے اور تقوی حاصل کرنے کی مشق سکھاتا ہے۔جو شخص کسی کا مال لیتا ہے وہ مال دینے والے کی اغراض کو ہمیشہ مد نظر رکھ کر مال لیوے اور اُسی کے مطابق اُسے شے دیوے۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳ مؤرخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۱۲) مت کھاؤ آپس میں مال ناحق اور نہ پہنچاؤ اُن کو حاکموں تک کہ کھا جاؤ کاٹ کر لوگوں کے مال سے مارے گناہ کے اور تم کو معلوم ہے۔(فصل الخطاب لمقدمہ اہل الکتاب حصہ اول۔ایڈیشن دوم صفحہ ۵۸ حاشیہ) ناحق کسی کا مال لینا ایسا ضروری نہیں جیسے کہ اپنی بیوی سے جماع کرنا یا کھانا پینا۔اس لئے خدا تعالیٰ سکھاتا ہے کہ جب تم خدا تعالیٰ کی خاطر کھانے پینے سے پر ہیز کر لیا کرتے ہو تو پھر ناحق کا مال اکٹھا نہ کرو بلکہ حلال اور طیب کما کر کھاؤ۔اکثر لوگ یہی کہتے ہیں کہ جب تک رشوت نہ لی جاوے