حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 473 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 473

حقائق الفرقان ۴۷۳ سُورَةُ الْبَقَرَة ۱۸۹ - وَلَا تَأْكُلُوا اَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْنُوا بِهَا إِلَى الْحُكَامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ - ترجمہ۔آپس میں ایک دوسرے کے مالوں کو ناحق نہ کھاؤ اور حکام تک بواسطہ ان مالوں کے اس لئے نہ پہنچنا کہ کسی طرح لوگوں کا کچھ مال خرد برد کر لو۔( نورالدین بجواب ترک اسلام۔کمپیوٹرائز ڈایڈ یشن صفحہ ۲۰) وَلَا تَأْكُلُوا اَمْوَالَكُمْ۔فرمایا ہے کہ ہم نے یہ سارا علم حصول تقوی کے لئے بیان کیا ہے پس تم مالی معاملات میں وہ راہ اختیار کرو جو خدا کو پسند ہے۔مجھے افسوس آتا ہے اس ملک کے لوگوں پر۔یوں تو چو ہڑوں کی نسبت مشہور ہے کہ ان کا چھرا حلال وحرام پر چلتا ہے مگر میں کہتا ہوں کئی گھر مسلمانوں کے چوہڑوں کے گھر بن رہے ہیں۔ایک ضرب المثل ہے، ضرب المثل کہنا تو نہیں چاہیے کیونکہ اس کے کہنے والے تو حکماء ہوتے ہیں۔یہ کسی سفیہ کا قول ہے کہ دنیا کمائے مکر سے اور روٹی کھائے شکر سے۔یہ بالکل ایک گندہ قول ہے اور کسی مادہ پرست تاریکی کے فرزند کا ہے۔تدلوا بِهَا إِلَى الْحُكام - رشوت نہ دو اور نہ یونہی مقدمہ بازی میں ناحق خرچ کرو۔باطل کہتے ہیں اس کو کہ اجازت شرعیہ کے خلاف کچھ حاصل کیا جائے۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۴، ۲۵ مورخه ۸ و ۱۵ را پریل ۱۹۰۹ء صفحه ۳۲) باطل طریق سے اموال کا لینا بہت خطرناک بات ہے۔پس ہر ایک اپنے اپنے اندر سوچو اور غور کرو کہ کہیں بطلان کی راہ سے تو مال نہیں آتا۔اپنے فرائض منصبی کو پورا کرو۔ان میں کسی قسم کی سنتی اور غفلت نہ کرو۔لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ ( بخاری - کتاب الایمان باب مِنَ الْإِيْمَانِ أَنْ تُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِه) (الحكم جلد ۵ نمبر ۶ مؤرخہ ۱۷؍فروری ۱۹۰۱ ء صفحه ۶) تقوی کے لئے ایک جزئی بیان کی ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کا مال مت کھایا کرو۔حرام خوری اور مال بالباطل کا کھانا کئی قسم کا ہوتا ہے۔ایک نوکر اپنے آقا سے پوری تنخواہ لیتا ہے مگر وہ اے تم میں سے کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لئے وہی پسند نہ کرے جو اپنے نفس کے لئے پسند کرتا ہے۔(ناشر)