حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 38 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 38

حقائق الفرقان ۳۸ سُوْرَةُ الْبَقَرَة پھر ان کے بعد ہمارے زمانہ میں امام نے بھی یہی معنے کئے ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ نے ابن عباس وابن مسعود کی تقلید سے یہ معنے نہیں کئے بلکہ اپنے ذوق سے بیان کئے۔وہ معنے یہ ہیں کہ انَا اللهُ أَعْلَمُ میں اللہ بہت جاننے والا ہوں۔آنا کا پہلا حرف لے لیا۔اللہ کا درمیانی حرف اور اعلم کا آخری۔مجموعی حیثیت سے لوگوں نے طبع آزمائیاں کی ہیں اور دوسرے معانی بھی اپنے اپنے ذوق کے مطابق بیان کئے ہیں چنانچہ ایک بزرگ نے لکھا ہے کہ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اس سورۃ میں آدم ، بنی اسرائیل اور ابراہیم کا قصہ آئے گا۔ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۱۵ مورخه ۴ فروری ۱۹۰۹ صفحه ۳٬۲) الله - اِس قسم کے الفاظ قرآن شریف کی اکثر سورتوں میں آتے ہیں اور ان کا نام عربی زبان میں حروف مقطعات ہیں اور دراصل یہ ایک مختصر نویسی کا ایک طریق ہے۔انگریزی زبان میں بھی اس کی نظیریں موجود ہیں جیسے ایم۔اے اور بی۔اے اور ایم۔ڈی وغیرہ۔ہر ایک محکمہ اور دفتر کی اصطلاح اختصار الگ الگ ہے۔محدثین نے اس سے کام لیا ہے چنانچہ بخاری کی بجائے لفظ خ لکھتے ہیں۔طب میں بھی اس سے کام لیتے ہیں۔بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ کی جگہ بسملہ کہتے ہیں جس سے مقصودساری آیت ہوتی ہے۔اسی طرح لاحول۔اسی طرح کا ایک الہام حضرت مسیح موعود کو ہوا تھا کہ ”یلاش“ جس کے معنے ہیں یامن لا شَرِيكَ لَہ۔غرض ان مقطعات میں باریک اشارات ہوتے ہیں۔چونکہ ان کی تفصیل لمبی ہے اس لئے درج نہیں کی جاتی۔حضرت اقدس نے براہین احمدیہ میں الله کے معنے آنَا اللهُ أَعْلَمُ کے کئے البدر جلد نمبر ۱۲ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۳ ء صفحه ۹۶) ہیں۔الم - انا اللهُ أَعْلَمُ۔حضرت علی ، ابن عباس ، ابن مسعود، ابی ابن کعب رضی اللہ عنہم ہر چہار نے بالا تفاق یہی معنی کئے ہیں۔تشخید الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۳۵)