حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 460 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 460

حقائق الفرقان ۴۶۰ سُورَةُ الْبَقَرَة الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمُ الآیة۔میں اگر الصیام سے مراد الہی رمضان شریف ہی کے روزے لئے جاویں تو تشبیه بلفظ کمابخوبی چسپاں نہیں ہوتی کیونکہ امم سابقہ پر رمضان شریف کے روزے فرض نہیں ہوئے تھے بلکہ مختلف ایام کے روزوں کا رکھنا بغیر کسی خاص تعین کے ثابت ہوتا ہے جیسا کہ قرآن مجید کے الفاظ آيا ما معدودات بھی اسی کی طرف ناظر ہیں۔دیکھو کتاب خروج کا باب ۳۴ اور کتاب دانیال کا باب دہم جس میں تین ہفتہ کے روزوں کا رکھنا حضرت دانیال کا ثابت ہوتا ہے اور کتاب سلاطین ۱۹ باب ورس ۸ سے چالیس دن کا روزہ رکھنا معلوم ہوتا ہے اور اعمال حوار بین کے ۲ باب ورس ۹ سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی بھی یہ روزے آیا ما مَعْدُودَتِ رکھا کرتے تھے۔غرض کہ تعیین ایک ماہ رمضان کے کتب بائیبل سے روزوں کے لئے نہیں پائی جاتی۔ہاں صرف آیا ما مَعْدُودَتِ کے روزے بغیر تعین شھر رمضان کے معلوم ہوتے ہیں۔اور اگر یہاں پر صرف ایک ادنی امر میں ایجاب میں ہی حرف کما تشبیہ کے لئے تسلیم کر لیا جاوے تو دوسرا امر یہ ہے کہ وَ عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مسکین سے رمضان کے روزے رکھنے اور نہ رکھنے میں اختیار ثابت ہوگا۔ہاں البتہ صرف ایک فضیلت ہی روزہ رکھنے کی ثابت ہو سکتی ہے۔کما قال الله تعالى وَ أَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ لیکن 1999 در صورتیکه مراد كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ سے رمضان کے ہی روزے ہو دیں تو یہ مخالف ہے آگے کی ودو آیت کے، جو بصیغہ امر فَلْيَصُهُ وارد ہے اور نیز مخالف ہے وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ کے، کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ارادہ کرتا ہے کہ تم عدت صیام شھر رمضان کا اکمال کرلو، نہ یہ کہ صیام اور فدیہ کے درمیان تم کو اختیار ہو۔اور اگر يُطيقونہ کے پہلے لا مقدر مانا جاوے جیسا کہ بعض مفسرین نے لکھا ہے تو اس طرح سے محذوفات کے ماننے میں مخالف کو بڑی گنجائش مل جاوے گی کہ جس آیت کو اپنے خیال کے مطابق نہ پایا اس کو اپنے خیال کے مطابق کوئی کلمہ محذوف مان کر بنالیا۔ہاں البتہ اس امر کا انکار نہیں ہو سکتا کہ قرائن سے جملہ کلاموں میں اور نیز قرآن مجید میں اکثر محذوفات مان لئے جاتے ہیں اور اگر ہمزہ باب افعال کا سلب کے لئے کہا جاوے تو اطاق يُطِيقُ کا محاورہ بمعنی عدم طاقت کے عرب عربا سے ثابت کرنا ضروری ہوگا۔مختار الصحاح میں تو لکھا ہے۔وَالطَّوْقُ أَيْضًا الطَّاقَةُ