حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 37
حقائق الفرقان ۳۷ سُوْرَةُ الْبَقَرَة سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ مَدَنِيَّةٌ 1 - بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ - ترجمہ۔میں پڑھنا شروع کرتا ہوں اس سورۃ کو اس کے نام کی مدد سے جو تمام صفات کاملہ کا جامع ، بلا درخواست دینے والا ، سچی محنتوں کا ضائع نہیں کرنے والا ہے۔تفسیر۔مقطعات کی نسبت اس زمانہ میں اعتراض ممکن تھا کیونکہ آزادی حد سے بڑھی ہوئی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے تمام متمدن قوموں ( جو انتظام مدائن کو خوب کرسکیں ) میں ان کا رواج دے کر انہیں ملزم کر دیا۔یورپ ، امریکہ کے لوگوں کے لئے تو یہ مسئلہ صاف ہے کیونکہ وہ اپنی قلموں، دواتوں، پنسلوں اور چھڑیوں، سلے ہوئے کپڑوں کو مقطعات کے نام سے وابستہ کرتے ہیں۔الیف۔اے ، بی۔اے ایم۔اے کو تو سب لوگ جانتے ہیں۔ریلوں کے این۔ڈبلیو۔آر کو بھی اکثر سمجھتے ہوں گے اور بعض خطابات اور قومی دکانوں کے مقطعات گو ذرا غور سے معلوم ہوتے ہیں مگر مخفی نہیں۔عرب میں بھی ان مقطعات کا رواج تھا چنانچہ بالام ایک مشہور شاعر گذرا ہے۔الله کی تشریح دو عظیم الشان بزرگوں نے کی ہے جنہیں قرآن دانی میں کسی نے برا نہیں کہا وہ عبد اللہ بن عباس اور عبداللہ بن مسعود تھے۔انہوں نے بالا تفاق ایک معنے کئے ہیں۔صحابہ نے ان معنوں کا انکار نہیں کیا اور نہ یہ کہا ہے کہ یہ احتیاط کے خلاف کرتے ہیں اس لئے میں ان معنوں کو اپنے فہم کے مطابق صحیح سمجھتا ہوں۔