حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 459
حقائق الفرقان ۴۵۹ سُورَةُ الْبَقَرَة ماہ رمضان ایسا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے۔ درآنحالیکہ تمام لوگوں کے لئے وہ بڑا ہدایت نامہ ہے اور روشن حجتیں ہیں ۔ ہدایت ہے اور حق و باطل میں تمیز کرنے والے دلائل ہیں۔ پس جو تم میں سے پاوے اس مہینہ کو تو اس کو چاہئے کہ اس میں روزے رکھے اور جو مریض یا مسافر ہو تو اور دنوں میں گن کر روزے رکھ لے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آسانی کا ارادہ کرتا ہے اور دشواری کو نہیں چاہتا اور تاکہ تم پوری کر لو گنتی قضا شدہ روزوں کی اور تاکہ بڑائی بیان کرو اللہ کی اس پر کہ تم کو ہدایت کی اور تا کہ تم شکر کرو۔ واضح ہو کہ یہ آیت دوسرے پارہ کے رکوع کے میں واقع ہے اور تمہ ہے ان آیات کا جو اس سے پہلے فضیلت صیام میں بیان فرمائی گئی ہیں ۔ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ - أَيَّامًا مَّعْدُودَت فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَ عَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ ۖ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرة : بقرة : ۸۵،۱۸۴ ۱۸۵،۱) ۔ احادیث میں فضائل روزہ رکھنے کے بہت کثرت سے مکتوب ہیں جن کو محب صادق کسی قدر بدر میں شائع فرمارہے ہیں۔ لہذا میں اس وقت بحوله وقوتہ تعالیٰ صرف قرآن مجید ہی سے کچھ فضائل صیام و ماہ رمضان کے بیان کروں گا ۔ الا ماشاء اللہ لیکن واسطے تفقہ ان آیات کے اولاً چند امور کا بیان کر دینا ضروری ہے امید ہے کہ ان کو بتوجہ سنا جاوے۔ (1) اس آیت سے پہلی آیات میں یعنی يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى اے اے ایماندار و ! تم کو ( عام ) روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے جس طرح حکم دیا تھا تم سے پہلے والوں کو تا کہ تم دکھوں سے بچو۔ چند روز گنتی ۔ چند روز گنتی کے روزے رکھنا ہے ) : ے رکھنا ہے ) پھر جو شخص تم سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں سے گنتی پوری کرے ( یعنی اور دنوں میں روزے رکھ لے ) اور جو طاقت رکھتے ہیں وہ کھانا بھی دیں ایک بے سامان کو پھر جو اپنی خوشی سے کچھ نیکی کرنی رنی چاہے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اور روزہ رکھنا بہر حال اچھا ہے تمہارے حق میں جب تم سمجھو۔ (ناشر)