حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 457
حقائق الفرقان ۴۵۷ سُورَةُ الْبَقَرَة کا حکم دیا تھا۔ان چیزوں سے بڑھ کر اور کوئی چیزیں ضروری نہیں۔بے شک سانس لینا ایک نہایت ضروری چیز ہے مگر انسان اس کو چھوڑ نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ نے یہ مہینہ اس واسطے بنایا ہے کہ جب انسان گیارہ مہینے سب کام کرتا ہے اور کھانے پینے، بیوی سے جماع کرنے میں مصروف رہتا ہے تو پھر ایسی ضروری چیزوں کو صرف دن کے وقت خدا تعالیٰ کے حکم سے ایک ماہ کے لئے ترک کر دے تو پھر دیکھو جہاں ایک طرف ان ضروری اشیاء سے منع کیا ہے دوسری طرف تدارس قرآن ، قیام رمضان اور صدقہ وغیرہ کا حکم دیا ہے اور اس میں یہ بات سمجھائی ہے کہ جب ضروری چیزیں چھوڑ کر غیر ضروری چیزوں کو خدا کے حکم سے اختیار کیا جاتا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے برخلاف غیر ضروری چیزوں کو حاصل کیا جاتا ہے۔رمضان کے مہینہ میں دعاؤں کی کثرت، تدارس قرآن ، قیام رمضان کا ضروری خیال رکھنا چاہیے۔حدیث شریف میں لکھا ہے مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَلَه مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِهِ ( بخاری کتاب الایمان باب صَوْمَ رَمَضَانَ احْتَسَابًا مِنَ الْإِيمَانِ ) مگر افسوس که بعض لوگ کہتے ہیں کہ رمضان میں خرچ بڑھ جاتا ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے۔اصل بات یہ ہے کہ وہ لوگ روزہ کی حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں۔سحرگی کے وقت اتنا پیٹ بھر کر کھاتے ہیں کہ دو پہر تک بدہضمی کے ڈکار ہی آتے رہتے ہیں اور مشکل سے جو کھانا ہضم ہونے کے قریب پہنچا بھی تو پھر افطار کے وقت عمدہ عمدہ کھانے پکوا کے وہ اندھیر مارا اور ایسی شکم پری کی کہ وحشیوں کی طرح نیند پر نیند اور سستی پرستی آنے لگی۔اتنا خیال نہیں کرتے کہ روزہ تو نفس کے لئے ایک مجاہدہ تھانہ یہ کہ آگے سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر خرچ کیا جاوے اور خوب پیٹ پر کر کے کھایا جاوے۔یا درکھو اسی مہینہ میں ہی قرآن مجید نازل ہونا شروع ہوا تھا اور قرآن مجید لوگوں کے لئے ہدایت اور نور ہے اسی کی ہدایت کے بموجب عمل درآمد کرنا چاہیے روزہ سے فارغ البالی پیدا ہوتی ہے اور دنیا کے کاموں میں سکھ حاصل کرنے کی راہیں حاصل ہوتی ہیں۔آرام تو یا مرکز حاصل ہوتا ہے یا بدیوں سے بچ کر تو اے جس نے رمضان کے روزے ایمان کی حالت اور ثواب کی نیت سے رکھے۔اس کے گذشتہ گناہ معاف کر دیئے گئے۔(ناشر)