حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 456
حقائق الفرقان ۴۵۶ سُورَةُ الْبَقَرَة ہے پھر رمضان کے روزوں کا حکم دیتا ہے۔پہلے شھر رمضان کی فضیلت بیان کی ہے کہ اس میں قرآن شریف نازل ہوا۔چونکہ قرآن کا اطلاق جزو سورہ پر بھی ہوسکتا ہے اس لئے اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام قرآن ماہِ رمضان میں نازل ہوا ہے بلکہ صرف ایک جزوسورۃ کا نزول بھی کافی ہے۔میں نے جو تحقیق کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن دنوں غارِ حرا میں عبادت فرمایا کرتے تھے وہ دن رمضان کے تھے اور وہیں پہلی سورۃ کا جزو نازل ہوا۔اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر رمضان اس لئے فضیلت کا مہینہ ہے کہ اس میں قرآن کا کوئی جز و نازل ہو ا تو اس فضیلت میں دوسرے مہینے بھی شامل ہیں۔اس لئے گو یہ دوسرے معنے بھی بہت سچ ہے کہ وہ رمضان جس کے بارے میں قرآن شریف نازل ہو انگر شروع نزول ایک رنگ رکھتا ہے۔بيِّنت۔کھلے ہدایت نامے۔الْفُرْقَانِ۔قرآن سے مجھے اس کے یہ معنے معلوم ہوئے کہ فرقان نام ہے اس فتح کا جس کے بعد دشمن کی کمر ٹوٹ جائے اور یہ بدر کا دن تھا۔غزوہ بدر بھی ماہ رمضان میں ہوا ہے۔غرض رمضان المبارک کیا بلحاظ فتوحات دنیاوی اور کیا باعتبار ابتداء نزولِ قرآنی یا تاکید قرآنی ہر طرح قابل قدر حرمت ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۴، ۲۵ مؤرخه ۸ و ۱۵ را پریل ۱۹۰۹ء صفحه ۳۲) اُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ۔اس کے متعلق قرآن نازل ہوا۔قرآن میں روزے کی تاکید ہے۔قرآن روزوں میں شروع ہوا۔دونوں معنی صحیح۔شھد۔مسافر نہ ہو بلکہ حاضر۔تفخیذ الا ذبان جلد ۸ نمبر ۹ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۴۱) رمضان کے دن بڑے بابرکت دن ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس مہینے میں خاص احکام دیئے ہیں اور ان پر عمل کرنے کی خاص تاکید کی ہے۔جو لوگ مسافر ہیں یا بیمار ہیں ان کو تو سفر کے بعد اور بیماری سے صحت یاب ہو کر روزے رکھنے کا حکم ہے مگر دوسرے لوگوں کو دن کے وقت کھانا پینا اور بیوی سے جماع کرنا منع ہے۔کھانا پینا بقائے شخص کے لئے نہایت ضروری ہے اور جماع کرنا بقائے نوع کے لئے سخت ضروری ہے۔اس مہینہ میں خدا تعالیٰ نے دن کے وقت ایسی ضروری چیزوں سے رکے رہنے