حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 452 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 452

حقائق الفرقان ۴۵۲ سُورَةُ الْبَقَرَة اور نوعی ضرورت جیسے نسل کے لئے بیوی سے تعلق۔ان دونوں قسم کی طبعی ضرورتوں پر قدرت حاصل کرنے کی راہ روزہ سکھاتا ہے اور اس کی حقیقت یہی ہے کہ انسان متقی بننا سیکھ لیوے۔آجکل تو دن چھوٹے ہیں۔سردی کا موسم ہے اور ماہِ رمضان بہت آسانی سے گذرا مگر گرمی میں جولوگ روزہ رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ بھوک پیاس کا کیا حال ہوتا ہے اور جوانوں کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ ان کو بیوی کی ( بیویوں کی ) کس قدر ضرورت پیش آتی ہے۔سخت گرمی کے موسم میں انسان کو پیاس لگتی ہے۔ہونٹ خشک ہوتے ہیں۔گھر میں دودھ، برف، مزہ دار شربت موجود ہیں مگر ایک روزہ دار ان کو نہیں پیتا۔کیوں؟ اس لئے کہ اس کے مولیٰ کریم کی اجازت نہیں کہ ان کو استعمال کرے۔بھوک لگتی ہے ہر ایک قسم کی نعمت زردہ، پلاؤ، قلبیہ، قورمہ، فرنی وغیرہ گھر میں موجود ہیں اگر نہ ہوں تو ایک آن میں اشارہ سے تیار ہو سکتے ہیں مگر روزہ داران کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتا۔کیوں؟ صرف اس لئے کہ اس کے مولی کریم کی اجازت نہیں۔شہوت کے زور سے پیچھے پھٹے جاتے ہیں اور اس کی طبیعت میں سخت اضطراب جماع کا ہوتا ہے۔بیوی بھی حسین، نوجوان اور صحیح القوی موجود ہے مگر روزہ دار اُس کے نزدیک نہیں جاتا۔کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ اگر جاؤں گا تو خدا تعالیٰ ناراض ہوگا۔اُس کی عدول حکمی ہوگی۔ان باتوں سے روزہ کی حقیقت ظاہر ہے کہ جب انسان اپنے نفس پر یہ تسلط پیدا کر لیتا ہے کہ گھر میں اس کی ضرورت اور استعمال کی چیزیں موجود ہیں مگر اپنے مولیٰ کی رضا کے لئے وہ حسب تقاضائے نفس ان کو استعمال نہیں کرتا تو جو اشیاء اس کو میسر نہیں اُن کی طرف نفس کو کیوں راغب ہونے دے گا۔رمضان شریف کے مہینہ کی بڑی بھاری تعلیم یہ ہے کہ کیسی ہی شدید ضرورتیں کیوں نہ ہوں مگر خدا کا ماننے والا خدا ہی کی رضامندی کے لئے ان سب پر پانی پھیر دیتا ہے اور ان کی پرواہ نہیں کرتا۔قرآن شریف روزہ کی حقیقت اور فلاسفی کی طرف خود اشارہ فرماتا اور کہتا ہے یايُّهَا الَّذِينَ امَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ روزہ تمہارے لئے اس واسطے ہے کہ تقوی سیکھنے کی تم کو عادت پڑ جاوے۔ایک روزہ دار خدا کے لئے ان تمام چیزوں کو