حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 451 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 451

حقائق الفرقان ۴۵۱ سُورَةُ الْبَقَرَة شربت حاضر ہے کوئی روکنے والا بھی نہیں مگر پھر بھی سچا روزہ دار مطلق ان چیزوں کے کھانے کا ارادہ تک نہیں کرتا۔اسی طرح بیوی پاس ہے کوئی چیز مانع بھی نہیں مگر پھر بھی وہ اس سے محتر ز ہے۔یہ کیوں؟ محض اس لئے کہ روزہ دار ہے اور اس کے مولیٰ کا حکم ہے کہ ان دونوں چیزوں سے رُکار ہے۔یہ مشاقی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ باوجود سامانوں کے مہیا ہونے اور ضرورت کے۔۔۔ہم ان چیزوں سے رکے رہیں جن سے رکے رہنے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے۔اسلام میں ہر سال ایک ماہ تو بالالتزام یہ مشق کرائی جاتی ہے اور ایک طرح سے چار ماہ کے لئے یہ مشق ہوتی ہے کیونکہ عادتِ نبوی تھی کہ ہر دوشنبہ اور جمعہ کو روزہ رکھتے پھر ایام بیض ( ۱۲، ۱۳، ۱۴) میں بھی روزہ رکھتے۔گویا ہر مہینے میں بالا وسط دس دن۔اس حساب سے روزہ کے لئے سال کے چار ماہ ہوتے ہیں۔اب خیال کرو کہ جولوگ چار ماہ یہ مشق کرتے ہیں وہ رشوت کیونکر لیں گے۔اکل بالباطل کیوں کریں۔کوئی ضرورت انسان کو ان ضرورتوں سے بڑھ کر پیش نہیں آ سکتی جو بقاء شخصی و بقاء نوعی کے لئے ضروری ہیں۔جب ان ضرورتوں میں باوجود سامانوں کے مہیا ہونے اور کسی روک کے نہ ہونے کے صرف اللہ کی فرمانبرداری کے لئے محتر زرہا ہے تو پھر ایک صریح حرام امر کا کیوں مرتکب ہونے لگا۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۴ مؤرخه ۱/۸ پریل ۱۹۰۹ء صفحه ۳۱) سب کے بعد تقوی کی وہ راہ ہے جس کا نام روزہ ہے جس میں انسان شخصی اور نوعی ضرورتوں کو اللہ تعالیٰ کے لئے ایک وقت معین تک چھوڑتا ہے۔اب دیکھ لو کہ جب ضروری چیزوں کو ایک وقت ترک کرتا ہے تو غیر ضروری کو استعمال کیوں کرے گا۔روزہ کی غرض اور غایت یہی ہے کہ غیر ضروری چیزوں میں اللہ کو ناراض نہ کرے اس لئے فرما يا لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ الحکم جلدے نمبر ۳ مؤرخہ ۲۴ جنوری ۱۹۰۳، صفحه ۱۵) روزہ کی حقیقت کہ اس سے نفس پر قابو حاصل ہوتا ہے اور انسان مشتقی بن جاتا ہے۔اس سے پیشتر کے رکوع میں رمضان شریف کے متعلق یہ بات مذکور ہے کہ انسان کو جو ضرورتیں پیش آتی ہیں ان میں سے بعض تو شخصی ہوتی ہیں اور بعض نوعی اور بقائے نسل کی شخصی ضرورتوں میں جیسے کھانا پینا ہے