حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 450
حقائق الفرقان ظالم عورت کو نہ رکھتے ہیں نہ طلاق دیتے ہیں ۔ ۴۵۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۴ مورخه ۸ را پریل ۱۹۰۹ صفحه ۳۱) ۱۸۳ - فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۔ - ترجمہ ۔ پھر جس نے خوف کیا وصیت کرنے والے کی جانب سے کسی ایک کی طرف جھکنے یا کسی کی حق تلفی یا گناہ کا پس صلح کرا دے آپس میں ( وارثوں کے ) تو اس پر کچھ گناہ نہیں بے شک اللہ بڑا ڈھانپنے والا ، سچی محنت کا بدلہ دینے والا ہے۔ تفسیر - فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا ۔ اس حکم وصیت میں ایک اور وصیت کا ذکر ہے بالفاظ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّة ( النساء: ۱۲ ) پس اس وصیت میں اگر کوئی کبھی کرے تو اس کی اصلاح کر لی جائے۔ جنفًا کے معنے غَيْرَ مُتَجَانِفِ لِاثْمٍ (المائدۃ: ۴) سے ظاہر ہوتے ہیں یعنی نہ جھکنے والا ۔ (ضمیمه اخبار بدر قادیان جلد ۸ نمبر ۲۴ مورخه ۸ را پریل ۱۹۰۹ صفحه ۳۱) ۱۸۴ - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ - ترجمہ ۔ اے ایماندار و تم کو ( عام ) روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے جس طرح حکم دیا تھا تم سے پہلے والوں کو تا کہ تم دکھوں سے بچو۔ تفسیر - كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ ۔ اس میں رمضان کا ذکر نہیں فرمایا تمہید ہے۔ تشحیذ الاذہان جلد ۸ نمبر ۹۔ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحه ۴۴۱) يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ - روزوں کی فلاسفی یہ ہے کہ انسان کو دو چیزوں کی بہت ضرورت ہے ایک بقاء شخصی کے لئے غذا کی ۔ دوم بقاء نوعی کے لئے بیوی کی ۔اب دیکھو انسان گھر میں تنہا بیٹھا ہے۔ پیاس بڑی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ دودھ موجود ہے برف موجود ہے۔