حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 443
حقائق الفرقان ۴۴۳ سُوْرَةُ الْبَقَرَة ہے۔وَالْيَوْمِ الْآخِرِ یوم آخرت پر ایمان ہو کہ بدیوں کی سزا ملے گی اور نیکیوں کا بدلہ نیک ملے گا۔اگر انسان جزائے اعمال کو مانتا ہو اور اسے ایمان ہو تو وہ بدیوں سے بچ جاتا ہے۔ایک شریف الطبع انسان کو کہہ دیں کہ دو روپیہ دیتے ہیں، بازار میں دو جوتے لگا لینے دو، وہ کبھی پسند نہیں کرے گا۔پھر یوم آخرت میں کب کوئی گوارا کر سکتا ہے۔پس اس پر ایمان لا کر بدی نہیں کر سکتا۔میں جانتا ہوں کہ ایک نو کر اپنے فرض منصبی میں ستی کر کے تنخواہ پاسکتا ہے۔ایک اہل حرفہ دھوکہ دے کر قیمت وصول کر سکتا ہے۔ایک شخص دوست کو دھوکہ دے کر آؤ بھگت کرا سکتا ہے۔یہ ممکن ہے لیکن اگر آخرت پر ایمان ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جا کر ان اعمال کی جوابدہی کرنا ہے تو ایسا عاقبت اندیش بدی کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔ایک لڑکا جو قلا قتند کھاتا ہے اور باپ کو کہتا ہے کہ جب لئے تھے یا کاپی لی تھی، وہ سوچ لے کہ اس کا انجام کیا ہوگا ؟ ایسا ہی جولڑ کا اپنے ہاتھوں سے اپنے قوائے شہوانی کو تحریک دیتا ہے، اس کا نتیجہ لازمی ہے کہ آنکھ اور دماغ خراب ہو جاوے۔ہر ایک کام کے انجام کو سوچو ! پھر نیکی کی تحریک کے لئے ملائکہ بڑی نعمت ہیں۔وہ انسان کے دل میں نیکی کی تحریک کرتے ہیں۔اگر کوئی ان کے کہنے کو مان لے تو اس طبقہ کے جو ملائکہ ہیں ، وہ سب اس کے دوست ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید میں فرمایا۔نَحْنُ اَولِیؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (حم السجدة:٣٢) ایسی پاک مخلوق کسی کی دوست ہو اور کیا خواہش ہو سکتی ہے؟ پھر ایمان بالکتب ہے اللہ کے فرمان اور حکم نامہ سے بڑھ کر کیا حکم نامہ ہوگا۔بہت سے افعال ہیں جن کی بابت لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ قانون، قاعدہ اور تحریر کے خلاف ہے۔یہاں سے کیسی نصیحت ملتی ہے کہ جب قوم، برادری اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی اچھے نتائج پیدا نہیں کرتی تو اللہ تعالیٰ کی کتاب، اس کے قوانین اور قواعد کے خلاف کر کے انسان کب سر خرو ہو سکتا ہے؟ یہ تمام امور انسان کے عقائد کے متعلق ہیں۔جب عقائد کی اصلاح ہو جاوے تو انسان کی عملی حالت پر اس کا اثر پڑتا ہے۔فرما یاد ائی ا ہمیں تمہارے دلی دوست ہیں دنیا کی زندگی میں۔( ناشر )