حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 442
حقائق الفرقان ۴۴۲ سُوْرَةُ الْبَقَرَة مہر بانیوں سے آرام پاتے ہو اگر وہ باتیں جو ہم بیان کرتے ہیں تو تمہارا فاتح ہونا اور مالدار ہونا کچھ کام نہیں آئے گا۔ولکن البر - الایۃ نیک تو وہ شخص ہے یا نیکی تو اس شخص کی ہے جس کا اللہ تعالیٰ پر ایمان ہو۔ایمان کیا چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور اس کی کامل صفات کو مان لینا۔پھر جب انسان کامل طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جاتا ہے اور اپنے آپ کو اسی کے قبضہ قدرت میں یقین کرتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی اسی کا ہو جاتا ہے۔مَن كَانَ لِلهِ حانَ الله له لی کسی چیز پر ایمان، وہ بری ہو یا بھلی اس کی پہچان کیا ہے؟ بھلی چیز پر ایمان ہو تو اس کے لینے میں مضائقہ نہیں کرتا۔مثلاً کھانا آتا ہے اور بھوک ہو تو اس کے لینے کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہے۔لیکن اگر بجائے کھانے کے آگ سامنے رکھ دی جاوے تو ہر چند بھوک ہو مگر چونکہ جانتا ہے کہ یہ آگ ہے، ہاتھ اس کی طرف اٹھتا ہی نہیں۔میرے جیسی فطرت تو آگ کو تا پنا بھی پسند نہیں کرتی۔بارہا میں نے سنایا ہے کہ اگر پانچ سو اونٹ کی قطار ہو تو ایک لڑکا بھی ان کی نکیل پکڑ کر لئے جاتا ہے۔لیکن اگر ایسے کنوئیں میں دھکیلنا چاہو تو پانچ سو آدمی بھی ایک اونٹ کو پکڑ کر کھینچیں تو وہ آگے نہیں بڑھتا۔پس اسی طرح پر اگر انسان کو یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کیسی قادر، رحیم، علیم، خبیر ، رب ، رحمان ، رحیم اور مالک یوم الدین اور وہ شہنشاہ احکم الحاکمین ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہر وقت یہ خواہش نہ ہو کہ اسے راضی کیا جاوے۔پھر اس نے اپنے رسولوں کی معرفت بتا دیا ہے کہ وہ کسی بدی پر راضی نہیں۔میں سمجھ ہی نہیں سکتا کہ ایک شخص ایمان حقیقی رکھ کر سب نبیوں کی مشترکہ تعلیم کی خلاف ورزی کیوں کرتا ہے؟ کیا کسی بھی نبی کی تعلیم ہے کہ جھوٹ بولیں، دنیا کے حریص ہوں، کاہل اور ست بن جاویں دھوکہ دیں۔حضرت حق سبحانہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہو جاویں۔شریر اور بدمعاشوں سے تعلق پیدا کریں؟ خدا تعالیٰ اس کو کبھی پسند نہیں کرتا اور ان تمام بدیوں سے بچنے کی ایک ہی راہ ہے کہ اللہ پر ایمان ہو۔پس جو شخص مَنْ آمَنَ بِاللہ کا مصداق ہو وہ تمام نیکیوں کا گرویدہ اور بھلائیوں کا پسند کرنے والا ہوگا۔اگر اس طرح پر سمجھ نہیں آتا تو ایک اور راہ ہے جس پر چل کر انسان بدیوں سے بچ سکتا لے جو اللہ کا ہو جاتا ہے اللہ اس کا ہو جاتا ہے۔(ناشر)