حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 440 of 680

حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 440

حقائق الفرقان ۴۴۰ سُوْرَةُ الْبَقَرَة اس نے حقارت سے دیکھا اور یہ ملاں بڑی بد بخت قوم ہوتی ہے۔ایسا ہی گڈی نشین ملا نمبر دار کے ماتحت ہوتا ہے اور گڈی نشین کو تو سب کچھ حلال ہے۔رنڈیاں ان کے دربار کی زینت ہیں۔نماز روزہ کو جواب دے رکھا ہے۔بزرگوں کے نام سے کھاتے ہیں۔خیر ! ایک وقت آیا کہ وہ یہودی مسلمان ہوا۔وہ حج کو گیا۔وہاں ملا بھی حج کر رہا تھا۔اپنا روپیہ کب خرچ کیا ہو گا۔کرایہ کا ٹو بن کر گیا ہوگا۔یہودی نے کہا۔دیکھا۔وہ چوگا ڈالنا ضائع نہ گیا۔ایک واقعہ رسول کریم کے زمانے میں بھی ایسا ہوا کہ کسی نے سو اونٹ دیئے تھے۔پوچھا۔کیا وہ اکارت گئے۔فرمایا نہیں أَسْلَمْتَ عَلَى مَا أَسْلَفْتَ مِن خَيْر۔اسی سے تو تمہیں اسلام کی توفیق ملی۔پس فرماتا ہے کہ مال دو۔باوجود مال کی محبت کے غیروں کو دیتے ہیں مگر رشتہ داروں کے دینے میں مضائقہ ہوتا ہے۔فرمایا ان کو بھی دو اور یہ نہ کہو کہ اس کے باپ کے دادا کو ہمارے چچا کے نانا سے یہ دشمنی کی تھی۔پھر فرمایا یتیموں کو مسکینوں کو ، مسافروں کو دو۔اللہ کے نیک کاموں ، اسلام کی اشاعت میں خرچ کرو۔مشکلات کے تین وقت آتے ہیں۔ایک قرض۔سو اس میں بھی امداد کرو۔ایک غریبی جس میں انسان بہت سی بدیوں کا ارتکاب کر گزرتا ہے۔ایک بیماری۔فرمایا ان سب میں استقلال سے کام لو۔اللہ تعالیٰ تمہیں توفیق دیوے۔البدر جلد ۸ نمبر ۴۰ مؤرخہ ۲۹ جولائی ۱۹۰۹ء صفحه ۲) لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ ج الْآخِرِ وَالْمَلَكَةِ وَالْكِتب وَالنَّبِيَّنَ وَأتَى الْمَالَ عَلَى حُبّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتْلَى وَالْمَسْكِينَ وَ ابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّابِلِينَ وَ فِي الرِّقَابِ وَ أَقَامَ الصَّلوةَ وَأَتَى الزَّكَوةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عهَدُوا وَ الصّبِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِيْنَ الْبَأْسِ أُولَبِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ۔(البقرة: ۱۷۸) تفسیر۔انسان پر جناب الہی نے بڑے بڑے کرم غریب نوازیاں اور رحم کئے ہیں۔اس کے سر سے لے کر پاؤں تک اس قدر ضرورتیں ہیں کہ یہ شمار نہیں کر سکتا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ان تعد وا ا تو نے ماضی میں جو بھلے کام کئے انہی کی بدولت تو نے اسلام قبول کیا۔( ناشر )۔سے نیکی یہی نہیں کہ تم