حقائق الفرقان۔۲۰۲۴ء ایڈیشن (جلد ۱) — Page 35
حقائق الفرقان ۳۵ سُوْرَةُ الْفَاتِحَة بعد الموت جو حالات انسان پر وارد ہونے والے ہیں ان سب میں بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ربوبیت کام آوے گی۔لوگ پتھر ، مورت، تصویر، قبر، آدمی ، فرشتہ وغیرہ کیا کیا کی پرستش کرتے ہیں۔یہ سب عبادت بے سود ہے کیونکہ یہ اشیاء ربّ العالمین نہیں بلکہ خود ربّ العالمین کی ربوبیت کے ماتحت ہیں۔یہی دلائل الرحمن الرحيم - مالک یوم الدین میں مذکور ہیں۔نَعبُدُ۔یہ ایک دعوی ہے کہ اے اللہ ! ہم تیری ہی فرمانبرداری کرتے ہیں اور کریں گے۔ہمارے سب کام تیری ہی اطاعت کے لئے ہیں اور ہوں گے اور کسی کی پرستش ہم نہیں کرتے نہ کریں گے۔عبادت کے اصول یہ ہیں کہ جس کی عبادت کی جائے۔اُس کے ساتھ کامل محبت ہو۔اُس کے حضور اپنا کامل تذلل ہو۔کیا معنے اُس کے حضور میں کامل تواضع وانکسار کیا جائے جو اُس کا ارشاد ہو اُس کے مطابق عملدرآمد ہو۔ہر وقت اُسی پر بھروسہ ہو۔نَسْتَعِينُ۔میں جتلایا گیا ہے کہ آدمی کو ست نہیں ہونا چاہئے بلکہ چست کام کرنے والا بننا چاہئے۔شیطان انسان کو دھوکا دیتا ہے کہ تو کمزور ہے یہ دینی خدمت ادا نہیں کر سکتا اور وہ نہیں کر سکتا۔کئی ایک نالائق عذر دل میں پیدا ہو جاتے ہیں کہ ہم معذور ہیں مسجد نہیں جا سکتے یا روزہ نہیں رکھ سکتے یا نماز جمع کر لینی چاہیے۔ایسے عذرات سے بچنا چاہئے۔چستی سے خدا کی عبادت اور فرمانبرداری کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔نَعبُدُ کا دعویٰ اور سستی میں بھلا کیا تعلق۔الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - سارا قرآن شریف صراط مستقیم سیدھی راہ دکھانے کے واسطے آیا ہے صراط مستقیم وہی ہے جو نبیوں ،صدیقوں ، شہیدوں، صالحین کی راہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی راہ ، آپ کے صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کا تعامل۔وہ لوگ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کی اطاعت ضروری نہیں۔ایسے لوگوں کو عملدرآمد کی توفیق نہیں ملتی۔الْمَغْضُوبِ اور الضَّال۔مغضوب وہ قومیں ہیں جنہوں نے علم پڑھا پر اُس پر عمل نہ کیا اور